Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Fi Zilal al-Quran Tefsir: Saba Ayah 35

34:35
وقالوا نحن اكثر اموالا واولادا وما نحن بمعذبين ٣٥
وَقَالُوا۟ نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَٰلًۭا وَأَوْلَـٰدًۭا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ ٣٥
وَقَالُواْﲇ
نَحۡنُﲈ
أَكۡثَرُﲉ
أَمۡوَٰلٗاﲊ
وَأَوۡلَٰدٗاﲋ
وَمَاﲌ
نَحۡنُﲍ
بِمُعَذَّبِينَﲎ
٣٥ﲏ
Ve dediler ki: "Malları ve çocukları en çok olan bizleriz, azaba uğratılacak da değiliz"
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

وقالوا نحن ۔۔۔۔۔ نحن بمعذبین (25) ” “۔ لیکن قرآن کریم جواب دہی کے لیے وہ معیار اور وہ قدریں وضع کرتا ہے جو اللہ کے ہاں معمول بہا ہیں۔ اللہ کے ہاں رائج ہیں۔ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ رزق کی کشادگی اور تنگی پر مدار فیصلہ نہیں ہے۔ فیصلہ اللہ کی رضا و غضب پر ہوگا۔ رزق نہ کسی کو سزا دیتا ہے اور نہ بچاتا ہے۔ حساب و کتاب اور جزاء و سزا کا معاملہ دولت مندی اور تنگدستی سے جدا ہے۔ اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کا تعلق رزق سے نہیں ہے اس کے لئے دوسرا معیار ہے۔