Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
37:171
ولقد سبقت كلمتنا لعبادنا المرسلين ١٧١
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا ٱلْمُرْسَلِينَ ١٧١
وَلَقَدۡ
سَبَقَتۡ
كَلِمَتُنَا
لِعِبَادِنَا
ٱلۡمُرۡسَلِينَ
١٧١
And olsun ki, peygamber kullarımıza söz vermişizdir.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

آیت 171{ وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور ہماری یہ بات پہلے سے طے شدہ ہے اپنے ان بندوں کے لیے جن کو ہم رسول بنا کر بھیجتے رہے ہیں۔“ یہ آیات فلسفہ قرآنی اور اللہ تعالیٰ کے ایک خاص قانون کے اعتبار سے بہت اہم ہیں۔ اس قانون کے تحت مرسلین کے لیے یقینی مدد کا وعدہ ہے ‘ لیکن یہ وعدہ صرف رسولوں کے لیے ہے۔ اس ضمن میں نبیوں اور رسولوں کے مابین فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ چناچہ ایک نبی علیہ السلام کے لیے لازم نہیں تھا کہ اس کے لیے اللہ کی مدد ضرور ہی آتی اور اسے ہر صورت میں غلبہ عطا کیا جاتا ‘ بلکہ نبیوں کو تو قتل بھی کیا جاتا رہا۔ جیسے حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کردیا گیا تھا۔ لیکن رسولوں کے بارے میں یہ بات طے تھی کہ وہ نہ تو قتل ہوں گے اور نہ ہی مغلوب۔ چناچہ جیسے ہی کسی رسول ﷺ کے مخالفین اس پر غالب آنے کی کوشش کرتے اور رسول علیہ السلام کے مغلوب ہونے کا امکان پیدا ہوتا تو اللہ کی فیصلہ کن مدد آجاتی۔ اس کے بعد رسول علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو بچالیا جاتا اور ان کے مخالفین کو نیست و نابود کردیا جاتا۔