Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
37:101
فبشرناه بغلام حليم ١٠١
فَبَشَّرْنَـٰهُ بِغُلَـٰمٍ حَلِيمٍۢ ١٠١
فَبَشَّرۡنَٰهُ
بِغُلَٰمٍ
حَلِيمٖ
١٠١
Biz de ona yumuşak huylu bir oğlan müjdeledik.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

آیت 101{ فَـبَشَّرْنٰــہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ } ”تو ہم نے اسے بشارت دی ایک حلیم الطبع لڑکے کی۔“ اس سے حضرت اسماعیل علیہ السلام مراد ہیں۔ -۔ ”حلیم“ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور اس حوالے سے قرآن میں یہ لفظ بار بار آیا ہے۔ ویسے تو اللہ کی صفات کا کچھ نہ کچھ عکس انسانوں کے اندر بھی پایا جاتا ہے لیکن ”حلم“ اللہ کی وہ شان ہے جو انسانوں میں زیادہ عام نہیں ہے۔ لفظ ”حلیم“ غیر اللہ کے لیے قرآن میں صرف تین مرتبہ آیا ہے۔ دو مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے التوبہ : 114 اور ہود : 75 اور ایک مرتبہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے آیت زیر مطالعہ میں۔ یہاں ایک قابل توجہ نکتہ یہ بھی ہے کہ اس آیت میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو غُلٰمٍ حَلِیْمٍ جبکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو سورة الحجر کی آیت 53 میں غُلٰمٍ عَلِیْمٍ کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ یعنی ایک بھائی علم میں زیادہ تھے اور ان ہی سے آگے بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ چلا اور دوسرے بھائی یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام ”حلم“ میں زیادہ تھے اور ان کی اولاد میں نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی بعثت ہوئی۔