Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tazkir ul Quran Tefsir: Sad Ayah 35

38:35
قال رب اغفر لي وهب لي ملكا لا ينبغي لاحد من بعدي انك انت الوهاب ٣٥
قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكًۭا لَّا يَنۢبَغِى لِأَحَدٍۢ مِّنۢ بَعْدِىٓ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ ٣٥
قَالَﲚ
رَبِّﲛ
ٱغۡفِرۡﲜ
لِيﲝ
وَهَبۡﲞ
لِيﲟ
مُلۡكٗاﲠ
لَّاﲡ
يَنۢبَغِيﲢ
لِأَحَدٖﲣ
مِّنۢﲤ
بَعۡدِيٓۖﲥﲦ
إِنَّكَﲧ
أَنتَﲨ
ٱلۡوَهَّابُﲩ
٣٥ﲪ
Süleyman: "Rabbim! Beni bağışla, bana benden sonra kimsenin ulaşamayacağı bir hükümranlık ver; Sen şüphesiz, daima bağışta bulunansın" dedi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
38:34 ile 38:40 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

ہر انسان سے کوتاہی ہوتی ہے۔ مگر خدا کے نیک بندوں کےلیے کوتاہی ایک عظیم بھلائی بن جاتی ہے کیونکہ وہ کوتاہی کے بعد اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں اور پھر اور زیادہ انعام کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی ایک موقع پر کوئی اجتہادی انداز کی کوتاہی ہوگئی۔ جب آپ پر حقیقت واضح ہوئی تو آپ شدیداِنابت کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے درگزر فرمایا اور مزید یہ انعام کیا کہ آپ کو عظیم سلطنت عطا فرمائی اور آپ کو ایسے غیر معمولی اختیارات دئے جو کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوئے۔