Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
38:19
والطير محشورة كل له اواب ١٩
وَٱلطَّيْرَ مَحْشُورَةًۭ ۖ كُلٌّۭ لَّهُۥٓ أَوَّابٌۭ ١٩
وَٱلطَّيۡرَ
مَحۡشُورَةٗۖ
كُلّٞ
لَّهُۥٓ
أَوَّابٞ
١٩
Doğrusu Biz, akşam sabah onunla beraber tesbih eden dağları, kuşları da toplu halde onun buyruğu altına vermiştik. Her biri ona yönelmekteydi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
38:9 ile 38:20 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر انسان کی اذیتوں پر صبر وہی شخص کرسکتا ہے جو انسان کے معاملہ کو خدا کے خانہ میں ڈال سکے۔ جو شخص خدا کی حمد وتسبیح میں ڈوبا ہوا ہو اسی کےلیے یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کی طرف سے کہی جانے والی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کردے۔

حضرت داؤد اس صفت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت اور سلطنت دی تھی۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ وہ کائنات میں بلند ہونے والی خدائی تسبیحات میں گم رہتے تھے۔ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر اتنے وجد کے ساتھ حمد خداوندی کا نغمہ چھیڑتے کہ پورا ماحول ان کا ہم آواز ہو جاتا تھا۔ درخت اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح خوانی میں شامل ہوجاتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جو حکومت دی تھی وہ نہایت مستحکم حکومت تھی۔ اس استحکام کا راز تھا حکمت اور فصلِ خطاب۔ حکمت سے مراد یہ ہے کہ وہ معاملات میں ہمیشہ حکیمانہ اور دانش مندانہ انداز اختیار کرتے تھے۔ اور فصلِ خطاب کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی دونوں چیزیں ہیں جو کسی حکمراں کو صالح حکمراں بناتی ہیں۔ اس کے اندر حکمت ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن جائے۔ اور فصل خطاب اس کا ضامن ہے کہ اس کا فیصلہ ہمیشہ منصفانہ فیصلہ ہوگا۔