Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
13:34
لهم عذاب في الحياة الدنيا ولعذاب الاخرة اشق وما لهم من الله من واق ٣٤
لَّهُمْ عَذَابٌۭ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ ٱلْـَٔاخِرَةِ أَشَقُّ ۖ وَمَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٍۢ ٣٤
لَّهُمۡ
عَذَابٞ
فِي
ٱلۡحَيَوٰةِ
ٱلدُّنۡيَاۖ
وَلَعَذَابُ
ٱلۡأٓخِرَةِ
أَشَقُّۖ
وَمَا
لَهُم
مِّنَ
ٱللَّهِ
مِن
وَاقٖ
٣٤
Onlara, dünya hayatında azap vardır, ahiret azabı ise daha çetindir. Allah'a karşı onları bir koruyan da yoktur.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
13:33 ile 13:34 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

مطالعہ بتاتاہے کہ کائنات میں ریکارڈنگ کا نظام ہے۔ آدمی جو کچھ بولتاہے یا جو کچھ کرتا ہے، وہ کائناتی انتظام کے تحت فوراً ریکارڈ ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کائنات کا خدا کسی ایسی ہستی ہی کو مانا جاسکتا ہے جس کے اندر ’’سننے‘‘ اور ’’دیکھنے ‘‘ کی طاقت ہو۔ مگر انسانوں نے اب تک جتنے شرکا ء فرض كيے ہیں، سب کے سب وہ ہیں جن کے اندر نہ سننے کی طاقت ہے اور نہ دیکھنے کی۔ ایسی حالت میں کیوں کر وہ موجودہ کائنات جیسی دنیا کے خالق ومالک ہوسکتے ہیں۔ جو خود نہ سنے وہ اپنی مخلوقات میں سننے کا مادہ کس طرح پیداکرے گا جو خود نہ دیکھے وہ دوسری چیزوں کو دیکھنے کے قابل کیسے بنائے گا۔

اسی طرح کائنات میں اتنی زیادہ وحدت ہے کہ وہ کسی طرح شرک کو قبول نہیں کرتی۔ جس شریک کا بھی نام لیاجائے، کائنات پورے وجود کے ساتھ اس کو تسلیم کرنے سے انکار کردے گی۔

منکرین کے لیے ان کا مکر خوش نما بنا دیاگیا ہے ،یہاں مکر سے مراد ان کا ’’قول‘‘ ہے جس کا ذکر اسی آیت میں اوپر موجود ہے۔ جب بھی آدمی حق کا انکار کرتاہے تو اس کا ذہن اپنے انکار کو جائزثابت کرنے کے لیے کوئی قول گھڑ لیتا ہے۔ یہ قول اگر چہ بے حقیقت الفاظ کے مجموعہ کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جو لوگ حق کے معاملہ میں زیادہ سنجیدہ نہ ہوںوہ کچھ نہ کچھ الفاظ بول کر سمجھ لیتے ہیں کہ انھوںنے اپنے انکار واعراض کو حق بجانب ثابت کردیا ہے۔ خواہ ان کے بولے ہوئے الفاظ ان کے اپنے ذہن کے باہر کوئی قیمت نہ رکھتے ہوں۔

اس قسم کے جھوٹے الفاظ کسی آدمی کو صرف موجودہ دنیا میں سہارا دے سکتے ہیں۔ آخرت میں جب ہر چیز کی حقیقت کھلے گی تو یہ خوشنما الفاظ اتنے بے وزن ہوجائیں گے کہ آدمی ان کو دہراتے ہوئے بھی شرم محسوس کرے گا۔