Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
13:23
جنات عدن يدخلونها ومن صلح من ابايهم وازواجهم وذرياتهم والملايكة يدخلون عليهم من كل باب ٢٣
جَنَّـٰتُ عَدْنٍۢ يَدْخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ ءَابَآئِهِمْ وَأَزْوَٰجِهِمْ وَذُرِّيَّـٰتِهِمْ ۖ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍۢ ٢٣
جَنَّٰتُ
عَدۡنٖ
يَدۡخُلُونَهَا
وَمَن
صَلَحَ
مِنۡ
ءَابَآئِهِمۡ
وَأَزۡوَٰجِهِمۡ
وَذُرِّيَّٰتِهِمۡۖ
وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ
يَدۡخُلُونَ
عَلَيۡهِم
مِّن
كُلِّ
بَابٖ
٢٣
Onlar, Rablerinin rızasını dileyerek sabrederler, namazı kılarlar; kendilerine verdiğimiz rızıktan, gizlice ve açıkça sarfederler; iyilik yaparak kötülüğü ortadan kaldırırlar; işte onlara bu dünyanın iyi sonucu, girecekleri Adn cennetleri vardır; babalarının, eşlerinin, çocuklarının iyi olanları da oraya girerler. Melekler her kapıdan yanlarına girip: "Sabretmenize karşılık size selam olsun; burası dünyanın ne güzel bir sonucudur!" derler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
13:20 ile 13:24 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

انسان کو خدا نے پیدا کیا ۔ اس نے اس کو رہنے کے لیے بہترین دنیادی۔ وہ ہر آن اس کی پرورش کررہا ہے۔ یہ واقعہ انسان کو اپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک فطری عہد میں باندھ دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان سرکش نہ بنے بلکہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے آگے جھک جائے۔

دنیا میں انسان کی زندگی مختلف قسم کے تعلقات وروابط کے درمیان ہے۔ انسان کی عبدیت کا تقاضا ہے کہ وہ اسی سے جڑے جس سے جڑنا خدا کو پسند ہے اور اس سے کٹ جائے جس سے کٹنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس پر خدا کی عظمت کا احساس اتنی شدّت سے طاری ہو کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، جس کی ایک مقرر صورت کا نام نماز ہے۔ وہ اپنے اثاثہ میں سے دوسروں کو اسی طرح دے جس طرح خدا نے اپنے اثاثہ میں سے اس کو دیا ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ ہو تو وہ اچھے سلوک کے ساتھ اس کا جواب دے۔ کیوں کہ وہ خود بھی یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں خدا اس کی برائیوں کو نظر انداز کردے اور اس کے ساتھ فضل ورحمت کا معاملہ فرمائے۔

یہ سب کچھ مسلسل صبر کا طالب ہے۔ نفس کے محرکات کے مقابلہ میں صبر۔ مفادات کے ضیاع کے مقابلہ میں صبر۔ ماحول کے دباؤ کے مقابلہ میں صبر۔ مگر مومن کو جنت کی خاطر ان تمام چیزوں پر صبر کرنا ہے۔ صبر ہی جنت کی قیمت ہے۔ صبر کی قیمت ادا كيے بغیر کسی کو خدا کی ابدی جنت نہیں مل سکتی۔