Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
13:22
والذين صبروا ابتغاء وجه ربهم واقاموا الصلاة وانفقوا مما رزقناهم سرا وعلانية ويدرءون بالحسنة السيية اولايك لهم عقبى الدار ٢٢
وَٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ سِرًّۭا وَعَلَانِيَةًۭ وَيَدْرَءُونَ بِٱلْحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى ٱلدَّارِ ٢٢
وَٱلَّذِينَ
صَبَرُواْ
ٱبۡتِغَآءَ
وَجۡهِ
رَبِّهِمۡ
وَأَقَامُواْ
ٱلصَّلَوٰةَ
وَأَنفَقُواْ
مِمَّا
رَزَقۡنَٰهُمۡ
سِرّٗا
وَعَلَانِيَةٗ
وَيَدۡرَءُونَ
بِٱلۡحَسَنَةِ
ٱلسَّيِّئَةَ
أُوْلَٰٓئِكَ
لَهُمۡ
عُقۡبَى
ٱلدَّارِ
٢٢
Onlar, Rablerinin rızasını dileyerek sabrederler, namazı kılarlar; kendilerine verdiğimiz rızıktan, gizlice ve açıkça sarfederler; iyilik yaparak kötülüğü ortadan kaldırırlar; işte onlara bu dünyanın iyi sonucu, girecekleri Adn cennetleri vardır; babalarının, eşlerinin, çocuklarının iyi olanları da oraya girerler. Melekler her kapıdan yanlarına girip: "Sabretmenize karşılık size selam olsun; burası dünyanın ne güzel bir sonucudur!" derler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
13:20 ile 13:22 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
منافق کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭

ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بے وفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الٰہی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الٰہی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لیے برائیوں سے بچتے ہیں، نیکیوں کی رغبت کرتے ہیں۔ اعتدال کا راستہ نہیں چھوڑتے۔ ہر حال میں فرمان الٰہی کا لحاظ رکھتے ہیں۔

گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے، انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔ فقراء، محتاج، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔ چھپے کھلے، دن رات، وقت بے وقت، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔ تعلیم قرآن ہے آیت «ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ» [41-فصلت:34،35] ‏ ” بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اچھا انجام ہے “۔

صفحہ نمبر4146