Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
27:68
لقد وعدنا هاذا نحن واباونا من قبل ان هاذا الا اساطير الاولين ٦٨
لَقَدْ وُعِدْنَا هَـٰذَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّآ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ ٦٨
لَقَدۡ
وُعِدۡنَا
هَٰذَا
نَحۡنُ
وَءَابَآؤُنَا
مِن
قَبۡلُ
إِنۡ
هَٰذَآ
إِلَّآ
أَسَٰطِيرُ
ٱلۡأَوَّلِينَ
٦٨
İnkar edenler: "Biz ve babalarımız toprak olduğumuzda mı, doğrusu bizler mi tekrar çıkarılacağız? Bununla biz de, daha önce babalarımız da, and olsun ki, tehdit edilmiştik. Bu, öncekilerin masallarından başka bir şey değildir" dediler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
27:67 ile 27:69 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

کسی پیغمبر کے مخاطب آخرت کے مطلق منکر نہ تھے۔ بلکہ وہ اس تصورِ آخرت کے منکر تھے جس کو پیغمبر پیش کرتے تھے۔ لوگ یہ یقین کيے ہوئے تھے کہ آخرت کا مسئلہ ان کے اپنے ليے نہیں ہے بلکہ دوسروں کے ليے ہے۔ پیغمبر نے بتایا کہ آخرت تمھارے ليے بھی ویسا ہی ایک سنگین مسئلہ ہے جیسا کہ وہ دوسروں کے ليے ہے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اپنے بزرگوں سے وابستگی آخرت میں ان کے ليے نجات کا ذریعہ بن جائے گی۔ پیغمبروں نے بتایا کہ آخرت میں صرف خدا کی رحمت آدمی کے کام آئے گی، نہ کہ کسی بزرگ سے وابستگی۔

یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ آخرت کے بارے میں ایک قسم کے ذہنی الجھن میں پڑے ہوئے تھے۔ ان کے بعض سر پھرے کبھی ایسے الفاظ بولتے جیسے کہ وہ آخرت کے منکر ہوں۔ مگر عام لوگوں کا حال یہ تھا کہ وہ نفسِ آخرت کا انکار نہیں کرتے تھے۔البتہ پیغمبر کے تصورِ آخرت کو ماننے میں زندگی کی آزادیاں ختم ہوتی تھیں۔ اس ليے ان کا نفس اس کو ماننے کے ليے تیار نہ تھا۔ چنانچہ اس کے جواب میں وہ ایسی باتیں کرتے تھے جیسے کہ وہ شک میں ہوں۔ اپنی اسی ذہنی کیفیت کی وجہ سے انھوںنے آخرت کے دلائل پر کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کیا۔ اس کے بارے میں وہ اندھے بہرے بنے رہے۔

حقیقت یہ ہے کہ قوموں کا فیصلہ کرنے کے ليے جو طاقتیں درکار ہیں وہ صرف خدائے عالم الغیب کو حاصل ہیں۔ وہ جزئی طورپر موجودہ دنیا میں بھی اپنا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ اور وہی آخرت میں کلی طورپر تمام قوموں کے اوپر اپنا فیصلہ نافذ فرمائے گا۔