Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
27:27
۞ قال سننظر اصدقت ام كنت من الكاذبين ٢٧
۞ قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ ٢٧
۞ قَالَ
سَنَنظُرُ
أَصَدَقۡتَ
أَمۡ
كُنتَ
مِنَ
ٱلۡكَٰذِبِينَ
٢٧
Süleyman şöyle söyledi: "Doğru mu söylüyorsun, yoksa yalancılardan mısın, bakacağız."
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
27:27 ile 27:35 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

حضرت سلیمان کی قوت وسلطنت ایک خدائی عطیہ تھی۔ اسی طرح آپ نے سبا کی حکومت کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ بھی ایک خدائی معاملہ تھا۔ شاہ عبدالقادر دہلوی آیت 37 کے ذیل میں لکھتے ہیں ’’اور کسی پیغمبر نے اس طرح کی بات نہیں فرمائی۔ سلیمان کو حق تعالیٰ کی سلطنت کا زورتھا جو یہ فرمایا‘‘۔

ملکہ سبا (بلقیس) نے معاملہ کو خالص حقیقت پسندانہ انداز سے دیکھا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم سلیمان کی طاقت سے ٹکرائیں تو زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم ہاریں گے اور پھر ہمارے ساتھ وہی کیا جائے گا جو ہر غالب قوم مغلوب قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہم اطاعت قبول کرلیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ تاہم ملکہ نے ابتدائی اندازوں کے لیے تحفے بھیجنے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ سلیمان ہماری دولت کے خواہش مند ہیں یا اس سے آگے ان کا ہم سے کوئی اصولی مطالبہ ہے۔