Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tazkir ul Quran Tefsir: An-Naml Ayah 14

27:14
وجحدوا بها واستيقنتها انفسهم ظلما وعلوا فانظر كيف كان عاقبة المفسدين ١٤
وَجَحَدُوا۟ بِهَا وَٱسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ ظُلْمًۭا وَعُلُوًّۭا ۚ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ ١٤
وَجَحَدُواْﱁ
بِهَاﱂ
وَٱسۡتَيۡقَنَتۡهَآﱃ
أَنفُسُهُمۡﱄ
ظُلۡمٗاﱅ
وَعُلُوّٗاۚﱆﱇ
فَٱنظُرۡﱈ
كَيۡفَﱉ
كَانَﱊ
عَٰقِبَةُﱋ
ٱلۡمُفۡسِدِينَﱌ
١٤ﱍ
Gönülleri kesin olarak kabul ettiği halde, haksızlık ve büyüklenmelerinden ötürü onları bile bile inkar ettiler. Bozguncuların sonunun nasıl olduğuna bir bak!
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
27:9 ile 27:14 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

حضرت موسیٰ پہاڑ پر آگ کے ليے گئے تھے۔ مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ پیغمبری کے ليے بلائے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے کو خصوصی عطیہ دیتاہے تو اچانک اور غیر متوقع طورپر دیتاہے تاکہ وہ اس کو براہِ راست اللہ کی طرف سے سمجھے اور اس کے اندر زیادہ سے زیادہ شکر کا جذبہ پیدا ہو۔

حضرت موسیٰ کی قوم (بنی اسرائیل) اگرچہ اس وقت کے لحاظ سے ایک مسلم قوم تھی۔ مگر اب وہ بالکل بے جان ہوچکی تھی۔ دوسری طرف انھیں فرعون جیسے جابر حکمراں کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرنا تھا۔ اس ليے اللہ تعالیٰ نے آغاز ہی میں آپ کو عصا کا معجزہ عطا فرمادیا۔ یہ عصا حضرت موسیٰ کے ليے ایک مستقل خدائی طاقت تھا۔ اس کے ذریعے سے فرعون کے مقابلہ میں 9 معجزات ظاہر ہوئے۔ بنی اسرائیل کے ليے ظاہر ہونے والے معجزات ان کے علاوہ تھے۔حضرت موسیٰ کے معجزات نے آخری حد تک آپ کی صداقت ثابت کردی تھی۔ اس کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھیوں نے آپ کا اعتراف نہیں کیا۔ اس کی وجہ ان کا ظلم اور علو تھا۔ فرعون اور اس کے ساتھی اپنی آزادی پر قید لگانے کے ليے تیار نہ تھے۔ مزید یہ کہ وہ جانتے تھے کہ موسیٰ کی بات ماننا اپنی بڑائی کی نفی کرنا ہے۔ اور کون ہے جو اپنی بڑائی کی نفی کی قیمت پر سچائی کو مانے۔