Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: An-Nahl 16:49

16:49
ولله يسجد ما في السماوات وما في الارض من دابة والملايكة وهم لا يستكبرون ٤٩
وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ مِن دَآبَّةٍۢ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ٤٩
وَلِلَّهِۤ
يَسۡجُدُۤ
مَا
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَمَا
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
مِن
دَآبَّةٖ
وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ
وَهُمۡ
لَا
يَسۡتَكۡبِرُونَ
٤٩
Göklerde ve yerde bulunan her canlı ve melekler, büyüklük taslamaksızın Allah'a secde ederler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
16:48 ile 16:50 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
عرش سے فرش تک ٭٭

اللہ تعالیٰ ذو الجلال و الاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بیہیمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بے کسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بے بس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف کی۔ اور فرمایا زمین و آسمان کے کل جاندار اس کے سامنے سجدے میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» السجدہ [13-الرعد:15] ‏، ” خوشی ناخوشی ہر چیز رب العالمین کے سامنے سر بسجود ہے، ان کے سائے صبح و شام سجدہ کرتے ہیں “۔

فرشتے بھی باوجود اپنی قدر و منزلت کے اللہ کے سامنے پست ہیں، اس کی عبادت سے تنگ نہیں آ سکتے اللہ تعالیٰ جل و علا سے کانپتے اور لرزتے رہتے ہیں اور جو حکم ہے اس کی بجا آوری میں مشغول ہیں نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر4460