Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: An-Nahl 16:29

16:29
فادخلوا ابواب جهنم خالدين فيها فلبيس مثوى المتكبرين ٢٩
فَٱدْخُلُوٓا۟ أَبْوَٰبَ جَهَنَّمَ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۖ فَلَبِئْسَ مَثْوَى ٱلْمُتَكَبِّرِينَ ٢٩
فَٱدۡخُلُوٓاْ
أَبۡوَٰبَ
جَهَنَّمَ
خَٰلِدِينَ
فِيهَاۖ
فَلَبِئۡسَ
مَثۡوَى
ٱلۡمُتَكَبِّرِينَ
٢٩
Temelli kalacağınız cehennemin kapılarından girin. Büyüklenenlerin durağı ne kötüdür!
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
16:28 ile 16:29 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
مشرکین کی جان کنی کا عالم ٭٭

مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” جب فرشتے ان کی جان لینے کے لیے آتے ہیں، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور مان لینے کا اقرار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے کرتوت چھپاتے ہوئے اپنی بے گناہی بیان کرتے ہیں “۔

«وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» [6-الأنعام:23] ‏ ” قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کر اپنا مشرک نہ ہونا بیان کریں گے “۔ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ» [58-المجادلہ:18] ‏ ” جس طرح دنیا میں اپنی بے گناہی پر لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ جھوٹے ہو، بد اعمالیاں جی کھول کر کہ چکے ہو، اللہ غافل نہیں جو باتوں میں آ جائے ہر ایک عمل اس پر روشن ہے۔ اب اپنے کرتوتوں کا خمیا زہ بھگتو اور جہنم کے دروازوں سے جا کر ہمیشہ اسی بری جگہ میں پڑے رہو “۔

مقام برا، مکان برا، ذلت اور رسوائی والا، اللہ کی آیتوں سے تکبر کرنے کا اور اس کے رسولوں کی اتباع سے جی چرانے کا یہی بدلہ ہے۔ مرتے ہی ان کی روحیں جہنم رسید ہو جائیں اور جسموں پر قبروں میں جہنم کی گرمی اور اس کی لپک آنے لگی۔ «لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا» [35-فاطر:36] ‏ ” قیامت کے دن روحیں جسموں سے مل کر نار جہنم میں گئیں اب نہ موت نہ تخفیف “۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا» [40-غافر:46] ‏ ” یہ دوزخ کی آگ کے سامنے ہر صبح شام لائے جاتے ہیں۔ قیامت کے قائم ہوتے ہی اے آل فرعون تم سخت تر عذاب میں چلے جاؤ “۔

صفحہ نمبر4434