Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
77:7
انما توعدون لواقع ٧
إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَٰقِعٌۭ ٧
إِنَّمَا
تُوعَدُونَ
لَوَٰقِعٞ
٧
Birbiri ardından gönderilenlere ve görevlerine koştukça koşanlara, Allah'ın buyruklarını yaydıkça yayanlara ve hak ile batılın arasını ayırdıkça ayıranlara, kötülüğü önlemek veya uyarmak için vahiy getiren meleklere and olsun ki, size söz verilen kıyamet şüphesiz kopacaktır.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

آیت 7{ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَـوَاقِعٌ۔ } ”جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ واقع ہو کر رہے گی۔“ یعنی جس قیامت کے بارے میں تم لوگوں کو بار بار متنبہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آکر رہے گی۔ واضح رہے کہ سورة قٓ سے لے کر سورة الناس تک مکی سورتوں کا موضوع انذارِ آخرت ہے۔ اس لیے سورة الذاریات کی قسموں کا مقسم علیہ بھی انذارِ آخرت ہی سے متعلق تھا : { اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ - وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ۔ } ”جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی“۔ البتہ سورة الصافات کے آغاز میں مذکور قسموں کا انداز تو بالکل ایسا ہی ہے لیکن وہاں ان قسموں کے مقسم علیہ کا تعلق توحید سے ہے : { اِنَّ اِلٰہَکُمْ لَوَاحِدٌ۔ } ”یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے“۔ اس لیے کہ سورة الصافات کا تعلق سورتوں کے جس گروپ سے ہے اس گروپ کا مرکزی مضمون ہی توحید ہے۔