Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Maryam 19:60

19:60
الا من تاب وامن وعمل صالحا فاولايك يدخلون الجنة ولا يظلمون شييا ٦٠
إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَـٰلِحًۭا فَأُو۟لَـٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْـًۭٔا ٦٠
إِلَّا
مَن
تَابَ
وَءَامَنَ
وَعَمِلَ
صَٰلِحٗا
فَأُوْلَٰٓئِكَ
يَدۡخُلُونَ
ٱلۡجَنَّةَ
وَلَا
يُظۡلَمُونَ
شَيۡـٔٗا
٦٠
Ancak tevbe eden, inanıp yararlı iş yapanlar bunun dışındadır. Bunlar hiçbir haksızlığa uğratılmadan, Rahman'ın kullarına gaybde vadettiği cennete, Adn cennetlerine gireceklerdir. Şüphesiz, O'nun sözü yerini bulacaktır.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
19:59 ile 19:60 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

پیغمبر کی دعوت کے ذریعہ جو افراد بنتے ہیں ان کی نمایاں خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ خواہش پرستی سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ اللہ کو یاد کرنے والے بن جاتے ہیں جس کی ایک متعین صورت کا نام نماز ہے۔ دین کی اصل خداکی یاد ہے۔ اور نماز اسی خدا کی یاد کی ایک منظم صورت۔

پیغمبروں کو ماننے والوں کی اگلی نسلیں اگر خدا سے غافل ہوجائیںاور خواہش کے پیچھے چلنے لگیں تو خدا کے نزدیک وہ گمراہ لوگ ہیں۔ پیغمبروں سے وابستگی ان کو کوئی فائدہ دینے والی نہیں۔ ایسے لوگ یقیناً اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ ان میں سے صرف وہی لوگ بچیں گے جو دوبارہ اصل دین کی طرف لوٹیں اور حقیقی معنوں میں ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کریں۔

آخرت کے لیے کوشش کرنے والے کو فوراً اپنی محنتوں اور قربانیوں کا انجام نہیں ملتا۔ اس لیے کوئی شخص شبہ کرسکتا ہے کہ یہ راستہ ایسا ہے جس میں عمل ہے مگر عمل کا انجام نہیں۔ مگر یہ محض غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دنیا کے لیے عمل کرنے والے اپنے عمل کا بدلہ پاتے ہیں اسی طرح آخرت کے لیے عمل کرنے والے بھی اپنے عمل کا بھر پور بدلہ پائیں گے۔ اس معاملہ میںکسی شک میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔