Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Ma'arij 70:44

70:44
خاشعة ابصارهم ترهقهم ذلة ذالك اليوم الذي كانوا يوعدون ٤٤
خَـٰشِعَةً أَبْصَـٰرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌۭ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يُوعَدُونَ ٤٤
خَٰشِعَةً
أَبۡصَٰرُهُمۡ
تَرۡهَقُهُمۡ
ذِلَّةٞۚ
ذَٰلِكَ
ٱلۡيَوۡمُ
ٱلَّذِي
كَانُواْ
يُوعَدُونَ
٤٤
Kabirlerden çabuk çabuk çıkacakları gün, gözleri dönmüş, yüzlerini zillet bürümüş olarak sanki dikili taşlara doğru koşarlar. İşte bu, onlara söz verilmiş olan gündür.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

اس کے بعد ان کی حالت کی تصویریوں کھینچی جاتی ہے :

خاشعة .................... ذلة (07 : 44) ” ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی ، ذلت ان پر چھارہی ہوگی “۔ ان الفاظ سے ان کی ہیئت کذائی کی خوب تصویر کھینچی گئی ہے۔ اور وہ نہایت تھکے ماندے اور ذلیل و خوار نظر آتے ہیں۔ اس سے قبل دنیا میں ان کی دوڑ دھوپ ، سستی اور کھیل کود کی تھی اور اب یہ ذلیل و خوار ہوکر ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔

ذلک ................ یوعدون (07 : 44) ” یہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا تھا “۔ اور یہ اس میں شک کرتے تھے ، تکذیب کرتے تھے اور جلدی مچاتے تھے۔

یوں سورت کا آغاز اور انجام ایک ہوجاتا ہے۔ اور بعث بعدالموت کے مسئلہ کا یہ حلقہ بھی اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ اور یوں زندگی کے جاہلی تصور اور اسلامی تصور کے مابین یہ معرکہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔