Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tazkir ul Quran Tefsir: Al-Qasas Ayah 80

28:80
وقال الذين اوتوا العلم ويلكم ثواب الله خير لمن امن وعمل صالحا ولا يلقاها الا الصابرون ٨٠
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ لِّمَنْ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَـٰلِحًۭا وَلَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلصَّـٰبِرُونَ ٨٠
وَقَالَﱶ
ٱلَّذِينَﱷ
أُوتُواْﱸ
ٱلۡعِلۡمَﱹ
وَيۡلَكُمۡﱺ
ثَوَابُﱻ
ٱللَّهِﱼ
خَيۡرٞﱽ
لِّمَنۡﱾ
ءَامَنَﱿ
وَعَمِلَﲀ
صَٰلِحٗاۚﲁﲂ
وَلَاﲃ
يُلَقَّىٰهَآﲄ
إِلَّاﲅ
ٱلصَّٰبِرُونَﲆ
٨٠ﲇ
Kendilerine ilim verilmiş olanlar ise: "Size yazıklar olsun; Allah'ın mükafatı, inanıp yararlı iş işleyenler için daha iyidir. Ona da ancak sabredenler kavuşabilir" demişlerdi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
28:79 ile 28:80 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

جس آدمی کے پاس دولت ہو اس کے گرد لازمی طورپر دنیا کی رونق جمع ہوجاتی ہے۔ اس کو دیکھ کر بہت سے نادان لوگ اس کے اوپر رشک کرنے لگتے ہیں۔ مگر جن لوگوں کو حقیقت کا علم حاصل ہوجائے ان کو یہ جاننے میں دیر نہیں لگتی کہ یہ محض چند دن کی رونق ہے اور جو چیز چند روزہ ہو اس کی کوئی قیمت نہیں۔

علمِ حقیقت اس دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ مگر علمِ حقیقت کا مالک بننے کےلیے صبر کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ یعنی خارجی حالات کادباؤ قبول نہ کرتے ہوئے اپنا ذہن بنانا۔ظاہری چیزوں سے غیر متاثر رہ کر سوچنا۔ وقتی کشش کی چیز کو نظر انداز کرکے رائے قائم کرنا۔ یہ بلاشبہ صبر کی مشکل ترین قسم ہے، مگر اسی مشکل ترین امتحان میں پورا اترنے کے بعد آدمی کو وہ چیز ملتی ہے جس کو علم اور حکمت کہا جاتا ہے۔