Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Bayan ul Quran Tefsir: Al-Qasas Ayah 16

28:16
قال رب اني ظلمت نفسي فاغفر لي فغفر له انه هو الغفور الرحيم ١٦
قَالَ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى فَٱغْفِرْ لِى فَغَفَرَ لَهُۥٓ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ١٦
قَالَﱷ
رَبِّﱸ
إِنِّيﱹ
ظَلَمۡتُﱺ
نَفۡسِيﱻ
فَٱغۡفِرۡﱼ
لِيﱽ
فَغَفَرَﱾ
لَهُۥٓۚﱿﲀ
إِنَّهُۥﲁ
هُوَﲂ
ٱلۡغَفُورُﲃ
ٱلرَّحِيمُﲄ
١٦ﲅ
Musa: "Rabbim! Doğrusu kendime yazık ettim, beni bağışla" dedi. Allah da onu bağışladı. O, şüphesiz bağışlayandır, merhamet edendir.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
28:15 ile 28:16 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

آیت 15 وَدَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَہْلِہَا ”حضرت موسیٰ علیہ السلام شاہی محل میں رہتے تھے اور عام طور پر شاہی محلات عام شہری آبادی سے الگ علاقے میں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ علیہ السلام کے شہر میں آنے کا یہاں خصوصی انداز میں ذکر ہوا ہے۔ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو آپ علیہ السلام علی الصبح شہر میں آئے ہوں گے جب لوگ ابھی نیند سے بیدار نہیں ہوئے تھے یا پھر وہ دوپہر کو قیلولے کا وقت تھا۔ہٰذَا مِنْ شِیْعَتِہٖ وَہٰذَا مِنْ عَدُوِّہٖ ج ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وہاں شہر میں ایک اسرائیلی اور ایک قبطی کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا۔قَالَ ہٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِط اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نیت تو قتل کرنے کی نہیں تھی لیکن اتفاق سے ضرب زیادہ شدید تھی اور وہ شخص مرگیا۔ یہ حرکت سرزد ہوتے ہی آپ علیہ السلام کو فوراً احساس ہوا کہ یہ مجھ سے شیطانی کام صادر ہوگیا ہے۔ چناچہ آپ علیہ السلام نے فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔