Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Isra 17:82

17:82
وننزل من القران ما هو شفاء ورحمة للمومنين ولا يزيد الظالمين الا خسارا ٨٢
وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌۭ وَرَحْمَةٌۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا خَسَارًۭا ٨٢
وَنُنَزِّلُ
مِنَ
ٱلۡقُرۡءَانِ
مَا
هُوَ
شِفَآءٞ
وَرَحۡمَةٞ
لِّلۡمُؤۡمِنِينَ
وَلَا
يَزِيدُ
ٱلظَّٰلِمِينَ
إِلَّا
خَسَارٗا
٨٢
Kuran'dan inananlara rahmet ve şifa olan şeyler indiriyoruz. O, zalimlerin ise sadece kaybını artırır.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
17:82 ile 17:83 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

آیت 82 وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ یہاں پر پھر قرآن کا لفظ ملاحظہ ہو۔ نوٹ کیجیے کہ خود قرآن کا ذکر اس سورت میں جتنی مرتبہ آیا ہے کسی اور سورت میں نہیں آیا۔ اس آیت میں قرآن کے احکام کو اہل ایمان کے لیے شفا اور رحمت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہی مضمون سورة یونس میں اس طرح بیان ہوا ہے : یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ”اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں کے امراض کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت“۔ یعنی قرآن ایک مؤمن کے سینے کو تمام آلائشوں اور بیماریوں مثلاً کفر شرک تکبر حسد حب مال حب جاہ حب اولاد وغیرہ سے صاف اور پاک کردیتا ہے۔وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًاجیسا کہ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا ہے : يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا ۙ وَّيَهْدِىْ بِهٖ كَثِيْرًا ۭ وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ ۔