Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
17:100
قل لو انتم تملكون خزاين رحمة ربي اذا لامسكتم خشية الانفاق وكان الانسان قتورا ١٠٠
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّىٓ إِذًۭا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ ٱلْإِنفَاقِ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَـٰنُ قَتُورًۭا ١٠٠
قُل
لَّوۡ
أَنتُمۡ
تَمۡلِكُونَ
خَزَآئِنَ
رَحۡمَةِ
رَبِّيٓ
إِذٗا
لَّأَمۡسَكۡتُمۡ
خَشۡيَةَ
ٱلۡإِنفَاقِۚ
وَكَانَ
ٱلۡإِنسَٰنُ
قَتُورٗا
١٠٠
De ki: "Rabbimin rahmet hazinelerine siz sahip olsaydınız, tükenir korkusuyla yine de cimrilik ederdiniz. Zaten insanlar pek cimridir."
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

انسان تنگ ظرف واقع ہوا ہے۔ وہ ہر قسم کے شرف کو اپنے لیے یا اپنے گروہ کے لیے جمع کرلینا چاہتا ہے۔ اگر نعمتوں کی تقسیم انسان کے ہاتھ میں ہوتی تو جن لوگوں کے پاس دولت وعظمت آگئی تھی وہی نبوت کو بھی اپنے پاس جمع کرلیتے۔ وہ اس کو دوسروں کے پاس جانے نہ دیتے۔

مگر خدا معاملات کو جوہر کے اعتبار سے دیکھتا ہے، نہ کہ گروہی تعصبات کی نظر سے۔ وہ تمام انسانوں پر نظر ڈالتا ہے۔ اور پوری نسل میں جو سب سے بہتر انسان ہوتاہے اس کو نبوت کے لیے چن لیتاہے۔ نبوت کا انتخاب اگر انسان کرنے لگیں تو یہاں بھی وہی کیفیت پیدا ہوجائے جو انسانی اداروں میں جانب داری کی وجہ سے نا اہل انسانوں کی بھیڑ کی صورت میں نظر آتی ہے۔