Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Hud 11:57

11:57
فان تولوا فقد ابلغتكم ما ارسلت به اليكم ويستخلف ربي قوما غيركم ولا تضرونه شييا ان ربي على كل شيء حفيظ ٥٧
فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّآ أُرْسِلْتُ بِهِۦٓ إِلَيْكُمْ ۚ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّى قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُۥ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ رَبِّى عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَفِيظٌۭ ٥٧
فَإِن
تَوَلَّوۡاْ
فَقَدۡ
أَبۡلَغۡتُكُم
مَّآ
أُرۡسِلۡتُ
بِهِۦٓ
إِلَيۡكُمۡۚ
وَيَسۡتَخۡلِفُ
رَبِّي
قَوۡمًا
غَيۡرَكُمۡ
وَلَا
تَضُرُّونَهُۥ
شَيۡـًٔاۚ
إِنَّ
رَبِّي
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٍ
حَفِيظٞ
٥٧
Bir kısım tanrılarımız seni çarpmıştır, demekten başka birşey demeyiz" dediler. Hud: "Doğrusu ben Allah'ı şahit tutuyorum; siz de şahit olun ki ben O'nu bırakıp koştuğunuz ortaklardan uzağım. Hepiniz bana tuzak kurun sonra da ertelemeyin. Ben, ancak benim de sizin de Rabbiniz olan Allah'a güvenirim. Hiçbir canlı yoktur ki Allah ona el koymamış bulunsun. Rabbim elbette doğru yoldadır. Eğer yüz çevirirseniz, şüphesiz ben size benimle gönderileni bildirdim. Rabbim sizden başka bir milleti yerinize getirebilir, O'na bir şey de yapamazsınız. Doğrusu Rabbim herşeyi koruyandır" dedi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
11:57 ile 11:60 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
ہود علیہ السلام کا قوم کو جواب ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”اپنا کام تو میں پورا کر چکا، اللہ کی رسالت تمہیں پہنچا چکا، اب اگر تم منہ موڑ لو اور نہ مانو تو تمہارا وبال تم پر ہی ہے نہ کہ مجھ پر۔ اللہ کو قدرت ہے کہ وہ تمہاری جگہ انہیں دے جو اس کی توحید کو مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، تمہارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں دینے کا بلکہ اس کا وبال تم پر ہی ہے۔ میرا رب بندوں پر شاہد ہے۔ ان کے اقوال افعال اس کی نگاہ میں ہیں۔‏“

آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ خیر و برکت سے خالی، عذاب و سزا سے بھری ہوئی آندھیاں چلنے لگیں۔ اس وقت ہود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی جماعت مسلمین اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے نجات پاگئے۔ سزاؤں سے بچ گئے، سخت عذاب ان پر سے ہٹا لیے گئے۔ یہ تھے عادی جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، اللہ کے پیغمبروں کی مان کر نہ دی۔ یہ یاد رہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا نافرمان کل نبیوں علیہم السلام کا نافرمان ہے۔ یہ انہیں کی مانتے رہے جو ان میں ضدی اور سرکش تھے۔ اللہ کی اور اس کے مومن بندوں کی لعنت ان پر برس پڑی۔ اس دنیا میں بھی ان کا ذکر لعنت سے ہونے لگا اور قیامت کے دن بھی میدان محشر میں سب کے سامنے ان پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ اور پکار دیا جائے گا کہ عادی اللہ کے منکر ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”ان کے بعد جتنے نبی علیہم السلام سب ان پر لعنت ہی کرتے آئے ان کی زبانی اللہ کی لعنتیں بھی ان پر ہوتی رہیں۔‏“

صفحہ نمبر3867