Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Falaq 113:4

113:4
ومن شر النفاثات في العقد ٤
وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَـٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ ٤
وَمِن
شَرِّ
ٱلنَّفَّٰثَٰتِ
فِي
ٱلۡعُقَدِ
٤
De ki: "Yaratıkların şerrinden, bastırdığı zaman karanlığın şerrinden, düğümlere nefes eden büyücülerin şerrinden, hased ettiği zaman hasedcilerin şerrinden, tan yerini ağartan Rabbe sığınırım."
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

آیت 4{ وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ۔ } ”اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہیں باندھ کر پھونکیں مارتی ہیں۔“ یعنی وہ تمام ٹونے ٹوٹکے ‘ تعویذ گنڈے اور سفلی عملیات جن کے ذریعے سے کسی انسان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے یہاں یہ نکتہ اچھی طرح سے سمجھ لیجیے کہ کسی چیز کا بالفعل موجود ہونا اور بات ہے اور اس چیز کا حلال ‘ حرام یا جائز ‘ ناجائزہونا الگ بات ہے۔ مثلاً جادو ایک حقیقت ہے لیکن کفر ہے۔ شراب اپنی ایک مخصوص تاثیر رکھتی ہے لیکن حرام ہے۔ اسی طرح علم نجوم ‘ پامسٹری ہاتھ کی لکیروں کا علم اور سفلی عملیات کی حقیقت اور تاثیر سے انکار نہیں کیا جاسکتا ظاہر ہے جب ہم اچھے وظائف و کلمات کی اچھی تاثیر کو مانتے ہیں تو ہمیں سفلی و شیطانی کلمات وغیرہ کی منفی تاثیر کا بھی اقرار کرنا پڑے گا لیکن شریعت نے ہمیں ایسے علوم سے استفادہ کرنے اور ایسے علوم کی بنیاد پر کیے گئے دعو وں پر یقین کرنے سے منع کردیا ہے۔ ظاہر ہے اس نوعیت کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہ تو موثر ہوسکتی ہیں اور نہ ہی کسی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس لیے ان کے شر سے بچنے کا آسان اور موثر طریقہ یہی ہے کہ انسان خود کو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دے دے۔