Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Fatir 35:26

35:26
ثم اخذت الذين كفروا فكيف كان نكير ٢٦
ثُمَّ أَخَذْتُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ ٢٦
ثُمَّ
أَخَذۡتُ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْۖ
فَكَيۡفَ
كَانَ
نَكِيرِ
٢٦
Sonra Ben, inkar edenleri yakaladım. Beni inkar etmek nasıl olur?
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
35:23 ile 35:26 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
باب

یعنی جس طرح کوئی مرنے کے بعد قبر میں دفنا دیاجاتا ہے تو اسے پکارنا بےسود ہے۔ اسی طرح کفار ہیں کہ ہدایت و دعوت ان کے لیے بیکار ہے۔ اسی طرح ان مشرکوں پر بدبختی چھاگئی ہے اور ان کی ہدایت کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ تو انہیں کسی طرح ہدایت پر نہیں لا سکتا تو صرف آگاہ کر دینے والا ہے۔ تیرے ذمے صرف تبلیغ ہے، ہدایت و ضلالت من جانب اللہ ہے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک ہر امت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم آتا رہا۔ تاکہ ان کا عذر باقی نہ رہ جائے۔

صفحہ نمبر7270

جیسے اور آیت میں ہے «وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ» ‏ [13-الرعد:7] ‏ اور جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» ‏ [16-النحل:36] ‏، وغیرہ، ان کا تجھے جھوٹا کہنا کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا ہے۔ جو بڑے بڑے معجزات، کھلی کھلی دلیلیں، صاف صاف آیتیں لے کر آئے تھے اور نورانی صحیفے ان کے ہاتھوں میں تھے، آخر ان کے جھٹلانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے انہیں عذاب و سزا میں گرفتار کر لیا۔ دیکھ لے کہ میرے انکار کا نتیجہ کیا ہوا؟ کس طرح تباہ و برباد ہوئے؟ «واللہ اعلم»

صفحہ نمبر7271