Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tazkir ul Quran Tefsir: Al-Anbiya Ayah 6

21:6
ما امنت قبلهم من قرية اهلكناها افهم يومنون ٦
مَآ ءَامَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـٰهَآ ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ ٦
مَآﲂ
ءَامَنَتۡﲃ
قَبۡلَهُمﲄ
مِّنﲅ
قَرۡيَةٍﲆ
أَهۡلَكۡنَٰهَآۖﲇﲈ
أَفَهُمۡﲉ
يُؤۡمِنُونَﲊ
٦ﲋ
Onlardan önce yoketmiş olduğumuz kasabalar halkı inanmadılar, bunlar mı inanacaklar?
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
21:5 ile 21:6 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

حق کا داعی ہمیشہ حق کی دعوت کو دلیل کے زور پر پیش کرتا ہے۔ مخالفین جب دیکھتے ہیں کہ وہ دلیل سے اس کا توڑ نہیں کرسکتے تو وہ طرح طرح کی باتیں نکال کر عوام کو اس سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہ شاعرانہ کلام ہے۔ یہ ادبی ساحری ہے۔یہ ایک دیوانے کے تخیّلات ہیں۔ یہ اپنے جی سے بنائی ہوئی باتیں ہیں، وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوں کہ اہل مکہ کے سامنے کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایاتھا۔ اس لیے آپ کی رسالت کو مشتبہ کرنے کے لیے وہ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ اگر خدا کے بھیجے ہوئے ہیں تو پچھلے پیغمبروں کی طرح خدا کے پاس سے کوئی معجزہ لے کر کیوں نہیں آئے۔

مگر تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ جو لوگ دلیل سے بات کو نہ مانیں وہ معجزہ کو دیکھ کر بھی اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔اس ليے لوگوں کے ساتھ خیر خواہی یہ ہے کہ دلیل کی زبان میں ان کی نصیحت جاری رکھی جائے، نہ کہ معجزہ دکھا کر ان پر اتمام حجت کردی جائے۔ کیوں کہ معجزے سے نہ ماننے کے بعد دوسرا مرحلہ ہلاکت ہوتا ہے۔