Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Anbiya 21:11

21:11
وكم قصمنا من قرية كانت ظالمة وانشانا بعدها قوما اخرين ١١
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍۢ كَانَتْ ظَالِمَةًۭ وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا ءَاخَرِينَ ١١
وَكَمۡ
قَصَمۡنَا
مِن
قَرۡيَةٖ
كَانَتۡ
ظَالِمَةٗ
وَأَنشَأۡنَا
بَعۡدَهَا
قَوۡمًا
ءَاخَرِينَ
١١
Halkı zalim olan nice kasabaları kırıp geçirdik ve onlardan sonra başka milletler varettik.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
21:10 ile 21:15 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

خدا کی کتاب عام معنوں میں محض ایک کتاب نہیں وہ ایک یاد دہانی ہے۔ وہ اس بات کی چیتاونی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا آنا اتفاق سے نہیں ہے، وہ ایک خدائی منصوبہ ہے۔ اور وہ منصوبہ یہ ہے کہ انسان کو آزمائش کے لیے وقتی آزادی دے دی جائے۔ اس کے بعد آدمی جیسا عمل کرے اس کے مطابق اس کو بدلہ دیا جائے۔ اس حقیقت کا جزئی ظہور ظالم قوموں کی ہلاکت کی صورت میں بار بار ہوتا رہا ہے۔ اور اس کا کلی ظہور قیامت میں ہوگا۔ جب کہ تمام اگلے پچھلے انسان دوبارہ پیداکرکے جمع کيے جائیں گے۔

جب خدا کی پکڑ ظاہر ہوتی ہے تو وہ تمام مادی سازوسامان آدمی کو مصیبت معلوم ہونے لگتے ہیں جن کے بل پر اس سے پہلے وہ حق کی دعوت کو نظر اندازکردیتا تھا۔ مادی سامان جب تک ساتھ نہ چھوڑدیں وہ غفلت سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اور جب یہ سامان اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اس وقت اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ مگر اس وقت آنکھ کا کھلنا اس کے کام نہیں آتا۔ کیوں کہ اس وقت تمام چیزیں اپنی طاقت کھو چکی ہوتی ہیں۔ اس کے بعد صرف خدا کسی کے کام آتا ہے، نہ کہ جھوٹے معبود۔