Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
6:91
وما قدروا الله حق قدره اذ قالوا ما انزل الله على بشر من شيء قل من انزل الكتاب الذي جاء به موسى نورا وهدى للناس تجعلونه قراطيس تبدونها وتخفون كثيرا وعلمتم ما لم تعلموا انتم ولا اباوكم قل الله ثم ذرهم في خوضهم يلعبون ٩١
وَمَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦٓ إِذْ قَالُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٍۢ مِّن شَىْءٍۢ ۗ قُلْ مَنْ أَنزَلَ ٱلْكِتَـٰبَ ٱلَّذِى جَآءَ بِهِۦ مُوسَىٰ نُورًۭا وَهُدًۭى لِّلنَّاسِ ۖ تَجْعَلُونَهُۥ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًۭا ۖ وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنتُمْ وَلَآ ءَابَآؤُكُمْ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِى خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ ٩١
وَمَا
قَدَرُواْ
ٱللَّهَ
حَقَّ
قَدۡرِهِۦٓ
إِذۡ
قَالُواْ
مَآ
أَنزَلَ
ٱللَّهُ
عَلَىٰ
بَشَرٖ
مِّن
شَيۡءٖۗ
قُلۡ
مَنۡ
أَنزَلَ
ٱلۡكِتَٰبَ
ٱلَّذِي
جَآءَ
بِهِۦ
مُوسَىٰ
نُورٗا
وَهُدٗى
لِّلنَّاسِۖ
تَجۡعَلُونَهُۥ
قَرَاطِيسَ
تُبۡدُونَهَا
وَتُخۡفُونَ
كَثِيرٗاۖ
وَعُلِّمۡتُم
مَّا
لَمۡ
تَعۡلَمُوٓاْ
أَنتُمۡ
وَلَآ
ءَابَآؤُكُمۡۖ
قُلِ
ٱللَّهُۖ
ثُمَّ
ذَرۡهُمۡ
فِي
خَوۡضِهِمۡ
يَلۡعَبُونَ
٩١
"Allah hiçbir insana bir şey indirmemiştir" demekle Allah'ı gereği gibi değerlendiremediler. De ki: "Musa'nın insanlara nur ve yol gösterici olarak getirdiği Kitap'ı kim indirdi? Ki siz onu kağıtlara yazıp bir kısmını gösterip çoğunu gizlersiniz, atalarınızın ve sizin bilmediğiniz size onunla öğretilmiştir." "Allah" de, sonra da onları daldıkları sapıklıkta bırak, oynasınlar.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
6:91 ile 6:92 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت مکہ کے لوگوں کے سامنے آئی تو ان کے کچھ لوگوں نے بعض یہود سے پوچھا کہ تمھارا اس بارے میں کیا خیال ہے۔ کیا محمد پر واقعی خدا کا کلام نازل ہوا ہے۔ یہود نے جواب دیا ’’خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے‘‘۔ بظاہر یہ بات بڑی عجیب ہے۔ کیوں کہ یہود تو خود نبیوں کو ماننے والے تھے، اور اس طرح گویا وہ اقرار کررہے تھے کہ بشر پر خدا کا کلام اترتا ہے۔ مگر جب آدمی مخالفت میں اندھا ہوجائے تو وہ مخالف کی تردید کے جوش میں کبھی یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنی مانی ہوئی باتوں کي تردید کرنے لگے۔

یہود کے اندر یہ ڈھٹائی اس لیے پیدا ہوئی کہ انھوں نے خدا کی کتاب کو ورق ورق کردیا تھا۔ وہ خدا کی تعلیمات کے کچھ حصے کو سامنے لاتے اور بقیہ کو کتاب میں بند رکھتے۔ مثلاً وہ انعام والی آیتوں کو خوب سنتے سناتے اور ان آیتوں کو چھوڑ دیتے جن میں وہ اعمال بتائے گئے ہیں جن کے کرنے سے کسی کو مذکورہ انعام ملتاہے۔ وہ ایسی آیتوں کا خصوصی تذکرہ کرتے جن سے ان کی شور وغل کی سیاست کی تائید نکلتی ہو اور ان آیتوں کو نظر انداز کردیتے جن میں خاموش اصلاح کے احکام ديے گئے ہوں۔ وہ ایسی آیتوں کے درس میں بڑا اہتمام کرتے جن میں ان کے لیے لفظی موشگافیوں کا کمال دکھانے کا موقع ہو، مگر ان آیتوں سے سرسری گزر جاتے جن میں دین کے ابدی حقائق بیان كيے گئے ہیں۔وہ ایسی آیتوں کا خوب چرچا کرتے جن سے اپني فضیلت نکلتی ہو اور ان آیتوں سے بے توجہی برتتے ہیں جن سے ان کی ذمہ داریاں معلوم ہوتی ہیں۔ جو لوگ خدا کی کتاب کو اس طرح ’’ورق ورق‘‘ کریں ان کے اندر فطری طورپر ڈھٹائی آجاتی ہے۔ وہ غیر سنجیدہ بحثیں کرتے ہیں، متضاد بیانات دیتے ہیں۔ ان سے کسی حقیقی تعاون کی امید نہیں کی جاسکتی۔ جو لوگ خدا کی کتاب کے ساتھ انصاف نہ کریں، وہ انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں کیسے انصاف کرسکتے ہیں۔

دین کی دعوت اصلاً لوگوں کو ہوشیار کرنے کی دعوت ہے۔ اس قسم کی دعوت خواہ کتنے ہی کامل انسان کی طرف سے پیش کی جائے وہ سننے والے کے دل میں اس وقت جگہ کرے گی جب کہ وہ اپنے سینہ میںایک اندیشہ ناک دل رکھتا ہو اورآخرت کے معاملہ کو ایک سنجیدہ معاملہ سمجھتا ہو۔ سننے والے میں اگر یہ ابتدائی مادہ موجود نہ ہو تو سنانے والا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔