Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
6:82
الذين امنوا ولم يلبسوا ايمانهم بظلم اولايك لهم الامن وهم مهتدون ٨٢
ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَمْ يَلْبِسُوٓا۟ إِيمَـٰنَهُم بِظُلْمٍ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ ٨٢
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَلَمۡ
يَلۡبِسُوٓاْ
إِيمَٰنَهُم
بِظُلۡمٍ
أُوْلَٰٓئِكَ
لَهُمُ
ٱلۡأَمۡنُ
وَهُم
مُّهۡتَدُونَ
٨٢
İşte güven; onlara, inanıp haksızlık karıştırmayanlaradır. Onlar doğru yoldadırlar.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
6:80 ile 6:83 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

جب کسی چیز یا کسی شخصیت کو معبود کادرجہ دے دیا جائے تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پر اسرار عظمتوں کے تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس ذات کو کائناتی نقشہ میں کوئی ایسا برتر مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔ اس کو خوش کرنے سے قسمتیں بنتی ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے قسمتیں بگڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے جب اپنی قوم کے بتوں کے بارے میں کہا کہ یہ بے حقیقت ہیں، انھیں خدا کی اس دنیا میں کوئی زور حاصل نہیں تو لوگوں کو اندیشہ ہونے لگا کہ اس گستاخی کے نتیجہ میں کوئی وبال نہ آپڑے۔ وہ حضرت ابراہیم سے بحثیں کرنے لگے۔ انھوں نے آپ کو ڈرایا کہ تم ایسی باتیں نہ کرو، ورنہ ان معبودوں کا غضب تمھارے اوپر نازل ہوگا۔ تم اندھے ہوجاؤ گے، تم پاگل ہوجاؤ گے، تم برباد ہوجاؤ گے، وغیرہ۔

اس دنیا میں صرف خدا کی ایک ذات هے جس کی کبریائی دلیل وبرہان کے اوپر قائم ہے۔ اس کے سوا بڑائی اور معبودیت کی جتنی قسمیں ہیں سب توہماتی عقائد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ خدا کی خدائی اپنے آپ قائم ہے، جب کہ دوسری تمام خدائیاں صرف ان کے ماننے والوں کی بدولت ہیں۔ اگر ماننے والے نہ مانیں تو یہ خدائیاں بھی بے وجود ہوکر رہ جائیں۔

ظاہري حالات کو دیکھ كران معبودوں کے پرستار اکثر اس دھوکے میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ سچے خدا پرستوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بدترین غلط فہمی ہے۔ محفوظ حیثیت دراصل اس کی ہے جو دلیل او ر برہان پر کھڑاہوا ہے۔ دنیوی رواج سے مصالحت کرکے کوئی شخص اپنے لیے محفوظ دیوار حاصل کرے تو آخری انجام کے اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

جھوٹے معبودوں کا غلبہ کبھی اس نوبت کو پہنچتا ہے کہ سچے خدا پرست بھی اس سے مرعوب ہو کر اس سے سازگاری کرلیتے ہیں۔ دنیوی مصلحتیں اور مادی مفادات ان سے اس درجہ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ باعزت زندگی حاصل کرنے کي اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت کر لی جائے۔ مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کرلینا ہے جو خود ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنا دے۔