Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
62:6
قل يا ايها الذين هادوا ان زعمتم انكم اولياء لله من دون الناس فتمنوا الموت ان كنتم صادقين ٦
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ هَادُوٓا۟ إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَآءُ لِلَّهِ مِن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُا۟ ٱلْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٦
قُلۡ
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
هَادُوٓاْ
إِن
زَعَمۡتُمۡ
أَنَّكُمۡ
أَوۡلِيَآءُ
لِلَّهِ
مِن
دُونِ
ٱلنَّاسِ
فَتَمَنَّوُاْ
ٱلۡمَوۡتَ
إِن
كُنتُمۡ
صَٰدِقِينَ
٦
De ki: "Ey Yahudiler! Bütün insanlar bir yana, yalnız kendinizin Allah'ın dostları olduğunuzu iddia ediyorsanız ve bunda samimi iseniz, ölümü dilesenize!"
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
62:5 ile 62:8 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

خدا کی کتاب جب کسی قوم کو دی جاتی ہے تو اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ اس کو اپنے اندر اتارے اور اس کو اپنی زندگی میں اپنائے۔ مگر جو قوم اس معنی میں کتاب آسمانی کی حامل نہ بن سکے اس کی مثال اس گدھے کی سی ہوگی جس کے اوپر علمی کتابیں لدی ہوئی ہوں اور اس کو کچھ خبر نہ ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے۔

یہود نے اگرچہ عملی طور پر خدا کے دین کو چھوڑ رکھا تھا، اس کے باوجود وہ اس کو اپنے قومی فخر کا نشان بنائے ہوئے تھے۔ مگر اس قسم کا فخر کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ ایسا فخر ہمیشہ جھوٹا فخر ہوتا ہے۔ اور اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ آدمی جس دین کو اپنے فخر کا سامان بنائے ہوئے ہوتا ہے اس کے لیے وہ قربانی دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ تاہم جب موت آئے گی تو ایسے لوگ جان لیں گے کہ دنیا میں وہ جس فخر پر جی رہے تھے وہ آخرت میں انہیں ذلت کے سوا اور کچھ دینے والا نہیں۔