Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
62:6
قل يا ايها الذين هادوا ان زعمتم انكم اولياء لله من دون الناس فتمنوا الموت ان كنتم صادقين ٦
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ هَادُوٓا۟ إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَآءُ لِلَّهِ مِن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُا۟ ٱلْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٦
قُلۡ
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
هَادُوٓاْ
إِن
زَعَمۡتُمۡ
أَنَّكُمۡ
أَوۡلِيَآءُ
لِلَّهِ
مِن
دُونِ
ٱلنَّاسِ
فَتَمَنَّوُاْ
ٱلۡمَوۡتَ
إِن
كُنتُمۡ
صَٰدِقِينَ
٦
De ki: "Ey Yahudiler! Bütün insanlar bir yana, yalnız kendinizin Allah'ın dostları olduğunuzu iddia ediyorsanız ve bunda samimi iseniz, ölümü dilesenize!"
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

آیت 6{ قُلْ یٰٓــاَ یُّہَا الَّذِیْنَ ہَادُوْآ اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّــکُمْ اَوْلِیَــآئُ لِلّٰہِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ اے وہ لوگو جو یہودی ہوگئے ہو ‘ اگر تمہیں واقعی یہ گمان ہے کہ بس تم ہی اللہ کے دوست ہو باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر“ زعم کا لفظ ”خیال خام“ کے معنی میں ہم اردو میں بھی استعمال کرتے ہیں کہ فلاں شخص کو فلاں چیز کا بڑا زعم ہے۔ تو اگر تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے چہیتے اور محبوب ہونے کا ایسا ہی زعم ہے : { فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ } ”تو تم موت کی تمنا کرو ‘ اگر تم واقعی سچے ہو۔“ اگر تم واقعی اللہ کے محبوب اور دوست ہو تو تمہیں اپنے دوست سے وصل کی تمنا ہونی چاہیے اور یہ تمنا چونکہ موت کے ذریعے پوری ہوسکتی ہے اس لیے تمہارے دلوں میں ہر وقت موت کی خواہش موجزن رہنی چاہیے۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورة البقرۃ آیات 94 ‘ 95 ‘ 96 میں بھی آچکا ہے۔