Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Bayan ul Quran Tefsir: Al-Jumu'ah Ayah 1

62:1
يسبح لله ما في السماوات وما في الارض الملك القدوس العزيز الحكيم ١
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ٱلْمَلِكِ ٱلْقُدُّوسِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيمِ ١
يُسَبِّحُﱁ
لِلَّهِﱂ
مَاﱃ
فِيﱄ
ٱلسَّمَٰوَٰتِﱅ
وَمَاﱆ
فِيﱇ
ٱلۡأَرۡضِﱈ
ٱلۡمَلِكِﱉ
ٱلۡقُدُّوسِﱊ
ٱلۡعَزِيزِﱋ
ٱلۡحَكِيمِﱌ
١ﱍ
Göklerde olanlar ve yerde bulunanlar, hükümran, çok kutsal, güçlü ve Hakim olan Allah'ı tesbih ederler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

آیت 1{ یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ۔ } ”تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ‘ جو بادشاہ ہے ‘ ہر عیب سے پاک ہے ‘ بہت زبردست ہے ‘ بہت حکمت والا ہے۔“ یہ آیت گویا اس سورة مبارکہ کے لیے ایک نہایت ُ پرشکوہ اور پرجلال تمہید اور آغاز کلام ہے۔ سورة الصف کے آغاز میں تسبیح باری تعالیٰ کا ذکر صیغہ ماضی میں تھا ‘ جبکہ یہاں فعل مضارع آیا ہے۔ اس طرح تسبیح باری تعالیٰ کے ضمن میں گویا زمان و مکان کا احاطہ کرلیا گیا ہے۔ اس آیہ مبارکہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے چار اسماء وارد ہوئے ہیں اور یہ ایک غیر معمولی بات ہے ‘ اس لیے کہ عام طور پر آیات کے اختتام پر اسمائِ باری تعالیٰ دو ‘ دو کے جوڑوں کی صورت میں آتے ہیں۔