Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Jinn 72:14

72:14
وانا منا المسلمون ومنا القاسطون فمن اسلم فاولايك تحروا رشدا ١٤
وَأَنَّا مِنَّا ٱلْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا ٱلْقَـٰسِطُونَ ۖ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ تَحَرَّوْا۟ رَشَدًۭا ١٤
وَأَنَّا
مِنَّا
ٱلۡمُسۡلِمُونَ
وَمِنَّا
ٱلۡقَٰسِطُونَۖ
فَمَنۡ
أَسۡلَمَ
فَأُوْلَٰٓئِكَ
تَحَرَّوۡاْ
رَشَدٗا
١٤
"İçimizde, kendini Allah'a vermiş olanlar da, yazık edenler de vardır. Kendini Allah'a veren kimseler, işte onlar, doğru yolu arayanlar, ona layık olanlardır."
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

وانا منا ................ رشدا (41) واما .................... حطبا (27 : 51) ” اور یہ کہ ” ہم میں سے کچھ مسلم (اللہ کی اطاعت گزار) ہیں اور کچھ حق سے منحرف۔ تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کرلیا ” انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈلی اور جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بننے والا ہیں “۔ قاسط کے معنی ظالم اور حق سے ایک طرف ہونے والے عدل و نیکی سے منحرف ہونے والے کے ہیں۔ جنوں نے ان کو مسلمانوں کے مقابل لاکر ذکر کیا ہے اور اس کے اندر ایک لطیف اشارہ ہے ، کہ ایک مسلمان عادل اور مصلح ہوتا ہے اور اس کا فریق مقابل ظالم اور مفسد ہوتا ہے۔

فمن اسلم .................... رشدا (27 : 41) ” جس نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کرلیا ” انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈلی “۔ یہاں ان کے اس فعل کو لفظ ” تحروا “ سے تعبیر کیا۔ نہایت گہری سوچ سے راہ ہدایت تلاش کرنا۔ اور اس کے بالمقابل ہے گمراہی اور ضلالت۔ ” تحری “ کے معنی ہوتے ہیں نہایت دقت سے راہ صواب کو اختیار کرنا اچھی طرح سوچ کر اور اچھی چھان بین کرکے۔ یہ نہیں کہ جدھر منہ ہوا ادھر چل دیا۔ بغیر سوچ سمجھ کے ، یعنی اسلام قبول کرتے ہی وہ راہ صواب تک پہنچ گئے۔ اسارہ اس طرف ہے کہ اسلام عین راہ نجات ہے اور یہ بہت ہی خوبصورت اشارہ ہے۔