Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-A'raf 7:88

7:88
۞ قال الملا الذين استكبروا من قومه لنخرجنك يا شعيب والذين امنوا معك من قريتنا او لتعودن في ملتنا قال اولو كنا كارهين ٨٨
۞ قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَنُخْرِجَنَّكَ يَـٰشُعَيْبُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَـٰرِهِينَ ٨٨
۞ قَالَ
ٱلۡمَلَأُ
ٱلَّذِينَ
ٱسۡتَكۡبَرُواْ
مِن
قَوۡمِهِۦ
لَنُخۡرِجَنَّكَ
يَٰشُعَيۡبُ
وَٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
مَعَكَ
مِن
قَرۡيَتِنَآ
أَوۡ
لَتَعُودُنَّ
فِي
مِلَّتِنَاۚ
قَالَ
أَوَلَوۡ
كُنَّا
كَٰرِهِينَ
٨٨
Milletinin büyüklük taslayan ileri gelenleri, "Ey Şuayb! Ya dinimize dönersiniz ya da, and olsun ki seni ve inananları seninle beraber kentimizden çıkarırız" dediler. Şuayb, onlara: "İstemezsek de mi? Allah bizi dininizden kurtardıktan sonra ona dönecek olursak, doğrusu Allah'a karşı yalan uydurmuş oluruz. Rabbimizin dilemesi bir yana, dininize dönmek bize yakışmaz. Rabbimizin ilmi her şeyi kuşatmıştır. Biz yalnız Allah'a güvendik. Rabbimiz! Bizimle milletimiz arasında hak ile Sen hüküm ver, Sen hükmedenlerin en hayırlısısın" dedi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
7:88 ile 7:89 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
شعیب علیہ السلام کی قوم نے اپنی بربادی کو آواز دی ٭٭

شعیب علیہ السلام کی قوم نے آپ کی تمام نصیحتیں سن کر جو جواب دیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ہوا یہ کہ دلیلوں سے ہار کر یہ لوگ اپنی قوت جتانے پر اتر آئے اور کہنے لگے: اب تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہم دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیتے ہیں یا تو جلا وطنی قبول کرو یا ہمارے مذہب میں آ جاؤ۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ ہم تو دل سے تمہارے ان مشرکانہ کاموں سے بیزار ہیں۔ انہیں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پھر تمہارے اس دباؤ اور اس خواہش کے کیا معنی؟

اگر اللہ نہ کرے، ہم پھر سے تمہارے کفر میں شامل ہو جائیں تو ہم سے بڑھ کر گناہگار کون ہو گا؟ اس کے تو صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے دو گھڑی پہلے محض ایک ڈھونگ رچایا تھا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھ کر نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ خیال فرمائیے کہ اس جواب میں اللہ کے نبی علیہ السلام نے ایمان داروں کو مرتد ہونے سے کس طرح دھمکایا ہے؟ لیکن چونکہ انسان کمزور ہے۔ نہ معلوم کس کا دل کیسا ہے اور آگے چل کر کیا ظاہر ہونے والا ہے؟ اس لیے فرمایا کہ اللہ کے ہاتھ سب کچھ ہے۔ اگر وہی کسی کے خیالات الٹ دے تو میرا زور نہیں۔ ہر چیز کے آغاز، انجام کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ہمارا توکل اور بھروسہ اپنے تمام کاموں میں صرف اسی کی ذات پاک پر ہے۔ اے اللہ! تو ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ فرما۔ ہماری مدد فرما۔ تو سب حاکموں کا حاکم ہے، سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، عادل ہے، ظالم نہیں۔

صفحہ نمبر2992