Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Ghashiyah 88:7

88:7
لا يسمن ولا يغني من جوع ٧
لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِى مِن جُوعٍۢ ٧
لَّا
يُسۡمِنُ
وَلَا
يُغۡنِي
مِن
جُوعٖ
٧
Semirtmeyen, açlığı gidermeyen kötü kokulu (kuru) bir dikenden başka yiyecekleri yoktur.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
88:6 ile 88:7 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

لیس لھم ............................ من جوع (7:88) ” خاردار سوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا ان کے لئے نہ ہوگا جو نہ موٹا کرے نہ بھوک مٹائے۔ “” ضریع “ کے معنی کے بارے میں دوقول ہیں ، ایک یہ کہ یہ ایک درخت ہوگا جو جہنم کے اندر ہی پیدا ہوگا جیسا کہ خود قرآن مجید میں زقوم آیا ہے کہ وہ ایک درخت ہے ، جو جہنم کی تہہ میں پیدا ہوگا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک کانٹے دار جھاڑی ہے جو زمین کے ساتھ چپکی ہوئی ہوتی ہے ، اور جب یہ سبز ہوتی ہے تو اسے شبرق کہتے ہیں اور جب اسے کاٹ لیا جائے اور خشک ہو تو ضریع کہتے ہیں ، اسے اونٹ چرتے ہیں۔ جب یہ خشک ہو تو اونٹ بھی اسے کھا نہیں سکتے کیونکہ اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ غرض جو معنی بھی ہوں ، یہ اس طرح کی خوراک ہے جس طرح پانی کے بارے میں آیا ہے کہ وہ غسلین یا غساق پئیں گے اور جو خوراک بھی وہاں ہوگی وہ نہ ان کو موٹا کرے گی اور نہ بھوک مٹائے گی۔

آخرت کا یہ عذاب کیسا ہوگا ؟ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ہم اس کا تصور نہیں کرسکتے۔ یہاں اس کی ایسی صفات دی جاتی ہیں تاکہ ہم بدترین سزا کا تصور کرسکیں۔ جس می ذلت ، کمزوری ، نامرادی ، گرم ترین آگ کی جلن ، زمہریر یعنی بہت سرد ، پینے کے لئے سخت گرم پانی ، اور اس قسم کا کھانا کہ اسے اونٹ بھی نہ کھا سکیں اور اگر کھائیں بھی تو ان کو کوئی نفع نہ دے ۔ ان اوصاف سے ہمارے احساسات میں جو چیز بیٹھتی ہے وہ حد درجہ کا رنج والم ہے۔ لیکن آخرت کا عذاب ہمارے تصورات سے شدید تر ہے۔ اور وہ کیا ہوگا ، یہ وہی بتا سکتا ہے جو اس میں مبتلا ہوگا۔ العیاذ باللہ ! اور دوسری طرف اہل ایمان :