Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-A'raf 7:201

7:201
ان الذين اتقوا اذا مسهم طايف من الشيطان تذكروا فاذا هم مبصرون ٢٠١
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ إِذَا مَسَّهُمْ طَـٰٓئِفٌۭ مِّنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ تَذَكَّرُوا۟ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ ٢٠١
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
ٱتَّقَوۡاْ
إِذَا
مَسَّهُمۡ
طَٰٓئِفٞ
مِّنَ
ٱلشَّيۡطَٰنِ
تَذَكَّرُواْ
فَإِذَا
هُم
مُّبۡصِرُونَ
٢٠١
Allah'a karşı gelmekten sakınanlar, şeytan tarafından bir vesveseye uğrayınca, Allah'ı anarlar ve hemen gerçeği görürler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

قرآن کریم ایک داعی کی نفسیاتی تسلی کے لیے ایک دوسرا تاثر بھی دیتا ہے کہ داعی کی مشکلات اس کے حق میں اللہ کے نزدیک سامان قبولیت ہیں اور شیطان کے وسوسوں اور اکساہٹؤں کے دفعیے کے لیے اہم ہتھیار تقوی اور ذکر الٰہی ہے۔

۔۔۔۔

اس مختصر آیت میں عجیب تاثرات دئیے گئے ہیں۔ جو گہرے حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور یہ تاثرات قرآن کریم کے خوبصورت انداز کلام سے معلوم ہوتے ہیں۔ آیت کے آخر کو ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ فاذا ھم مبصرون۔ " انہیں اچانک نظر آنے لگتا ہے کہ صحیح طریق کار کیا ہے "

یہ آخری فقرہ پوری آیت کو بیشمار معانی عطا کرتا ہے حالانکہ سابقہ آیات کے الفاظ میں ان معانی کے لیے کوئی لفظ اشارہ تک نہیں کرتا۔ اس آخری فقرے نے یہ بات بتائی کہ جب انسان کے احساس کو شیطانی خیال چھوتا ہے تو انسان کی فکر و نظر ایک مختصر وقت کے لیے معطل ہوجاتی ہے۔ لیکن تقویٰ ، خدا خوفی اور اللہ کی یاد اور خشیت الٰہی وہ گہرا رابطہ ہے جو دلوں کو اللہ سے جوڑے رکھتا ہے اور انہیں بار بار غفلت سے جگاتا ہے اور ہدایت دیتا رہتا ہے۔ اہل تقوی کو جب حقیقت یاد آجاتا ہے تو ان کی فکر و نظر اور شعور سے پردے اٹھ جاتے ہیں اور وہ اچانک وہ راہ دیکھ لیتے ہیں جن پر انہیں چلنا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان کا مس انسان کو اندھا کردیتا ہے اور اللہ کی یاد انسان کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ مس شیطان ظلمت اور تاریکی ہے اور اللہ کی طرف رجحان نور اور روشنی ہے۔ مس شیطان کا علاج صرف تقوی اور یاد لۃٰ سے ہوسکتا ہے اور جن لوگوں میں تقوی اور ذکر الہی ہو ان پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا۔

متقین کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب شیطان کے اثر سے برا خیال انہیں چھو بھی لے تو وہ چوکنے ہوجاتے ہیں اور صحیح راہ دیکھنے لگتے ہیں۔