Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Haqqah 69:25

69:25
واما من اوتي كتابه بشماله فيقول يا ليتني لم اوت كتابيه ٢٥
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ بِشِمَالِهِۦ فَيَقُولُ يَـٰلَيْتَنِى لَمْ أُوتَ كِتَـٰبِيَهْ ٢٥
وَأَمَّا
مَنۡ
أُوتِيَ
كِتَٰبَهُۥ
بِشِمَالِهِۦ
فَيَقُولُ
يَٰلَيۡتَنِي
لَمۡ
أُوتَ
كِتَٰبِيَهۡ
٢٥
Fakat kitabı kendisine solundan verilen kimse: "Kitabım keşke bana verilmeseydi; keşke hesabımın ne olduğunu bilmeseydim; bu iş keşke son bulmuş olsaydı; malım bana fayda vermedi; gücüm de kalmadı" der.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
69:25 ile 69:27 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

اب یہ شخص جان چکا ہے کہ اس کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور اس کا انجام کار آخر کار جہنم رسیدگی ہے۔ یہ اس میدان میں نہایت ہی حسرتناک انجام لئے کھڑا ہے۔ نہایت درجے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اور درج بالا تبصرہ وہ کرتا ہے۔

نہایت طویل منظر ہے اس شخص کا۔ اس کی حسرت کو ذرا اطوالت سے بیان کیا گیا ہے۔ اس قدر کہ ایک قاری یہی سمجھتا ہے کہ یہ بیان ختم ہی نہ ہوگا۔ لہجہ بھی مایوس کن ہے لیکن یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کہ وہ بعض مناظر ومواقف کو طوالت دیتا ہے اور بعض کو چند جملوں میں بیان کردیتا ہے۔ اور اس طرح نفس انسانی پر نہایت ہی مفید اثرات چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ حسرت اور پشیمانی کی سوچوں کو ذرا اطوالت دی جائے تاکہ لوگ ابھی سے سوچ لیں کہ وہاں کس قدر حسرت اور شرمندگی کا سامنا ہوگا۔ عذاب تو بہت بڑی چیز ہے۔ چناچہ اس منظر کو ذرا طویل کردیا گیا کیونکہ سیاق کلام میں اصل مقصود یہی تھا۔ اس میں عبادت بھی بڑی نغمہ بارے۔ یہ بدبخت شخص تمنائیں کرتا ہے کہ اے کاش یہ وقت نہ آتا۔ اسے کتاب اعمال ہی نہ دی جاتی ، اسے علم ہی نہ ہوتا کہ کیا ہوا۔ اور یہ کہ یہ قیامت کا وقت یا اس لئے جو موت آئی تھی ، وہ دائمی ہوجاتی۔ میرے وجود کے عناصر ترکیبی ہی ختم کردیئے جاتے۔ مزید افسوس اس پر کہ دنیا میں جن چیزوں پر وہ فخر کرتا تھا وہ اس کے لئے بالکل نافع نہیں ہے۔