Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Sad 38:83

38:83
الا عبادك منهم المخلصين ٨٣
إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ٱلْمُخْلَصِينَ ٨٣
إِلَّا
عِبَادَكَ
مِنۡهُمُ
ٱلۡمُخۡلَصِينَ
٨٣
İblis: "Senin kudretine and olsun ki, onlardan, sana içten bağlı olan kulların bir yana, hepsini azdıracağım" dedi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
38:82 ile 38:83 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

آیت نمبر 82 تا 83

اس نے اپنا منہاج کار بھی متعین کردیا ، وہ اللہ کی عزت کی قسم اٹھا کر اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ میں ان تمام انسانوں کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ ہاں وہ صرف ان لوگون کو مستثنیٰ کرتا ہے جن پر اس کا بس نہیں چلتا۔ اس لیے نہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ وہ کچھ مہربانی کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے دام میں آنے والے نہیں ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ شیطان کی دست درازیوں سے محفوظ ہیں۔ ان کے اور شیطان کے درمیان کیا پردہ ہوتا ہے ؟ وہ یہ کہ بندہ اللہ کی بندگی اخلاص کے ساتھ کرے تو وہ شیطان کی دسترس سے دور ہوجاتا ہے۔ یہی طریق نجات ہے اور یہی زندگی کی مضبوط رسی ہے۔ اور یہ بھی اللہ کے ارادے اور تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ اللہ کی مشیت کے دائرہ کے اندر ہلاکت یا نجات ملتی ہے۔ اس موقع پر اللہ نے بھی اپنے ارادے کا برملا اظہار کردیا اور اللہ نے بھی اپنے منہاج کا اعلان کردیا ۔