Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Ash-Shu'ara 26:149

26:149
وتنحتون من الجبال بيوتا فارهين ١٤٩
وَتَنْحِتُونَ مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًۭا فَـٰرِهِينَ ١٤٩
وَتَنۡحِتُونَ
مِنَ
ٱلۡجِبَالِ
بُيُوتٗا
فَٰرِهِينَ
١٤٩
Kardeşleri Salih onlara: "Allah'a karşı gelmekten sakınmaz mısınız? Doğrusu ben size gönderilmiş güvenilir bir elçiyim; artık Allah'tan sakının ve bana itaat edin. Ben buna karşı sizden bir ücret istemiyorum; benim ecrim ancak Alemlerin Rabbine aittir. Burada bahçelerde, pınar başlarında, ekinler, salkımları sarkmış hurmalıklar arasında güven içinde bırakılır mısınız? Dağlarda ustalıkla evler oyar mısınız? Artık Allah'tan sakının, bana itaat edin. Yeryüzünü ıslah etmeyip, bozgunculuk yapan beyinsizlerin emirlerine itaat etmeyin" dedi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
26:146 ile 26:149 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

اتنراکون فی ……فرھین (149)

یہ لوگ ایسے معاشی حالات میں رہتے تھے جس کی تصویر کشی ان کے لئے ان کے بھائی صالح کر رہے تھے۔ لیکن یہ لوگ نہایت غفلت سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اس بات کی کوئی فکر نہیں کر رہے کہ یہ انعامات دینے والا کون ہے۔ ان انعامات کا سرچشمہ اور آنے کی جگہ کون سی ہے۔ یہ لوگ اس منعم حقیقی کا تصور بھی نہیں کرتے جس نے یہ انعامات عطا کئے ہیں۔ چناچہ رسول وقت نے ان کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو ورنہ واپس لی جاسکتی ہیں۔

حضرت صالح نے ان کو ایسے جھٹکے دیئے کہ ان کے غافل دل جاگ اٹھیں اور اللہ کا خوف کریں۔

اتترکون فی ماھھنا امنین (26 : 136) ” کیا تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں ہیں ، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیئے جائو گے۔ “ مطلب یہ کہ کیا تم جس خوشحالی ، عیش و عشرت اور نعمتوں میں ڈوبے ہوئے ہو ، ہمیشہ رہو گے ، تمہیں کہیں جواب نہیں دینا ہے ، کہیں نہیں جاتا ہے۔ کسی بالائی قوت سے تمہیں کوئی ڈر نہیں ہے۔ ان کے زوال کا بھی کوئی ڈر نہیں ہے۔ کیا ڈرتے نہیں ہو کہ حالات بدل بھی سکتے ہیں۔

ان باغات اور چشموں میں ان فصلوں اور میوہ جات میں تاکستانوں اور نخلستانوں میں اور ان خوشگوار اور خوش ذائقہ میوہ جات میں ، زود ہضم پھلوں میں اور پہاڑوں میں تم جو مکانات بناتے ہو ، یا اپنی عیاشیوں کے لئے تم پہاڑوں جیسے اونچے مکانات بناتے ہو اور یہ سب کام عبث ہے کیونکہ یہ تمہاری رہائش کی ضرورت سے بہت ہی زیادہ ہے۔ محض مہارت حسن اور تعیش کے اظہار کے لئے۔

یوں حضرت صالح ان غافل لوگوں کو سخت جھٹکے دے کر جگانے کے بعد ان کو دعوت دیتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور ان لوگوں کی مخالفت کرو جو ظالم سردار ہیں اور جو ہر وقت شر و فساد اور ظلم کی طرف مائل رہتے ہیں۔