Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Ash-Shu'ara 26:128

26:128
اتبنون بكل ريع اية تعبثون ١٢٨
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةًۭ تَعْبَثُونَ ١٢٨
أَتَبۡنُونَ
بِكُلِّ
رِيعٍ
ءَايَةٗ
تَعۡبَثُونَ
١٢٨
Kardeşleri Hud, onlara: "Allah'a karşı gelmekten sakınmaz mısınız? Doğrusu ben size gönderilmiş güvenilir bir elçiyim; Allah'tan sakının ve bana itaat edin. Buna karşı sizden bir ücret istemiyorum; benim ecrim ancak Alemlerin Rabbine aittir. Siz her yüksek yere koca bir bina kurup, boş şeyle mi uğraşırsınız? Temelli kalacağınızı umarak sağlam yapılar mı edinirsiniz? Yakaladığınızı zorbaca mı yakalarsınız? Artık Allah'tan sakının ve bana itaat edin. Bildiğiniz şeyleri size verenden sakının; davarları, oğulları, bahçeleri ve akarsuları size O vermiştir. Doğrusu hakkınızda büyük günün azabından korkuyorum" dedi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
26:128 ile 26:129 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

اتبنون بکل ……تخلدون (79)

ربع عربی میں بلند زمین کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اونچے مقامات پر مکانات بناتے تھے اور دور سے وہ مکانات یوں نظر آتے تھے جیسا کہ بڑا پہاڑ اور مقصود ان کا یہ دکھانا تھا کہ وہ بڑے ماہر فن اور بڑے صاحب مقدرت ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس کے لئے عبث کا لفظ استعمال کیا ، اگر یہ بڑے بڑے نشانات وہ مسافروں کی رہنمائی یا سمندری جہازوں کی راہنمائی کے لئے بناتے تو قرآن ان کے لئے عبث کا لفظ استعمال نہ کرتا۔ اس سے یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ قوت اور مہارت اور دولت کو منفعت بخش امور میں خرچ کرنا ہے۔ محض نمائش ، زیبائش اور اظہار حسن و کمال کے لئے نہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اس تبصرے میں ایک معنی خیز فقرہ بھی استعمال کیا ہے۔

وتخذون مصائع لعلکم تخلدون (26 : 129) ” تم بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو ، گویا تم نے ہمیشہ رہنا ہے۔ “ قوم عاد تہذیب و تمدن میں قابل ذکر حد تک ترقی کر گئے تھے۔ بڑے بڑے محلاث بنانے اور پہاڑوں کو کانٹے کے لیء انہوں نے ترقی یافتہ ٹیکنالوجی ایجاد کرلی تھی۔ بڑے بڑے مینارے بلند مقامات پر بناتے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ شاید یہ بڑے بڑے محلات اور اونچی اونچی علامات اور مینار سے وہ اس لئے بناتے تھے کہ انہیں اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ نہ اس دنیا کے طبعی حالات ان پر اثر انداز ہوں گے اور نہ کوئی دشمن ان پر فتح پا سکے گا۔

حضرت ہود اپنی تنقید جاری رکھتے ہیں :