Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Taha 20:35

20:35
انك كنت بنا بصيرا ٣٥
إِنَّكَ كُنتَ بِنَا بَصِيرًۭا ٣٥
إِنَّكَ
كُنتَ
بِنَا
بَصِيرٗا
٣٥
Musa: "Rabbim! Göğsümü genişlet, işimi kolaylaştır, dilimin düğümünü çöz ki sözümü iyi anlasınlar. Ailemden kardeşim Harun'u bana vezir yap, beni onunla destekle, onu görevimde ortak kıl ki Seni daha çok tesbih edelim ve çokça analım. Şüphesiz Sen bizi görmektesin" dedi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

انک کنت بنا بصیرا (02 : 53) ” تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران ہے “۔ آپ کو ہمارا حال اچھی طرح معلوم ہے ہم ضعیف و قصور کھتے ہیں اور آپ کو ہماری ضروریات کا اچھی طرح علم ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت ہی طویل سوال کیا اور اپنی ضروریات بتائیں۔ اپنی کمزوری کا اظہار کیا ‘ مدد ‘ سہولیات اور مسلسل رابطے کی ضرورت کا ذکر کیا۔ رب تعالیٰ تو سنتا ہے اور جانتا ہے ۔ آپ کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) ضعیف ہیں۔ مانگتے ہیں اور بات کرتے جاتے ہیں۔ تو رب ذوالجلال اپنے مہمان کو شرمندہ نہیں فرماتے ‘ کوئی سوال رد نہیں کرتے ‘ منظوری میں دیر بھی نہیں کرتے۔