Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Maryam 19:47

19:47
قال سلام عليك ساستغفر لك ربي انه كان بي حفيا ٤٧
قَالَ سَلَـٰمٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ بِى حَفِيًّۭا ٤٧
قَالَ
سَلَٰمٌ
عَلَيۡكَۖ
سَأَسۡتَغۡفِرُ
لَكَ
رَبِّيٓۖ
إِنَّهُۥ
كَانَ
بِي
حَفِيّٗا
٤٧
İbrahim şöyle cevap verdi: "Sana selam olsun. Senin için Rabbim'den mağfiret dileyeceğim, çünkü O, bana karşı çok lütufkardır."
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
19:47 ile 19:48 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

تم پر خدا کی سلامتی ہو ‘ نہ جھگڑا ہے ‘ نہ تردید ہے ‘ نہ دھمکی اور نہ ارادہ قتل کے جواب میں رد عمل ہے۔ بلکہ جواب یہ ہے کہ میں تمہارے بارے میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا کہ وہ آپ کو اس گمراہی سے اور شیطان کی دوستی سے کسی طرح نکال لائے۔ آپ پر رحم فرمائے اور آپ کو ہدایت نصیب کرے۔ میرے ساتھ میرے رب کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے جب بھی دعا کی ہے میرے رب نے مجھے نامراد نہیں لوٹایا اور اگر میرا آپ کے پاس رہنا اور آپ کی نظروں کے سامنے پھرنا آپ کو پسند نہیں تو اے ابا جان ‘ میں آپ کو اور آپ کی قوم کو چھوڑدوں گا۔ آپ جانیں اور آپ کے معبود جانیں۔ میں تو اپنے رب وحدہ ہی کی بندگی کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ میرا رب میری اس دعا کو مسترد نہیں کرے گا۔

حضرت ابراہیم جس بات کی امید کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ میرا رب مجھے شقی نہیں بنائے گا۔ ان کی یہ بات بھی نہایت کسر نفی ‘ ادب اور تقویٰ پر مبنی ہے۔ وہ اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھتے۔ صرف یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اللہ مجھے شقاوت اور بد بختی سے بچائے گا۔

یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ ‘ اپنی قوم ‘ اپنے اہل اور رشتہ داروں اور ان کی بت پرستیوں کو چھوڑ کر علاقے کو خیر باد کہہ دیا۔ اللہ نے بھی انہیں تنہا نہ چھوڑا۔ اللہ نے بھی انہیں اولاد دی اور مقام عالی عطا کیا۔