ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
เลือกภาษา
3:20
فان حاجوك فقل اسلمت وجهي لله ومن اتبعن وقل للذين اوتوا الكتاب والاميين ااسلمتم فان اسلموا فقد اهتدوا وان تولوا فانما عليك البلاغ والله بصير بالعباد ٢٠
فَإِنْ حَآجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِىَ لِلَّهِ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْأُمِّيِّـۧنَ ءَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُوا۟ فَقَدِ ٱهْتَدَوا۟ ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَـٰغُ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ ٢٠
فَإِنۡ
حَآجُّوكَ
فَقُلۡ
أَسۡلَمۡتُ
وَجۡهِيَ
لِلَّهِ
وَمَنِ
ٱتَّبَعَنِۗ
وَقُل
لِّلَّذِينَ
أُوتُواْ
ٱلۡكِتَٰبَ
وَٱلۡأُمِّيِّـۧنَ
ءَأَسۡلَمۡتُمۡۚ
فَإِنۡ
أَسۡلَمُواْ
فَقَدِ
ٱهۡتَدَواْۖ
وَّإِن
تَوَلَّوۡاْ
فَإِنَّمَا
عَلَيۡكَ
ٱلۡبَلَٰغُۗ
وَٱللَّهُ
بَصِيرُۢ
بِٱلۡعِبَادِ
٢٠
[20] แล้วหากพวกเขาโต้แย้งเจ้า ก็จงกล่าวเถิดว่าฉันได้มอบใบหน้า (ร่างกาย) ของฉันแด่อัลลอฮฺแล้ว และผู้ที่ปฏิบัติตามฉัน (ก็มอบ) ด้วยและเจ้าจงกล่าวแก่บรรดาผู้ที่ได้รับคัมภีร์ และบรรดาผู้ที่เขียนอ่านไม่เป็นว่า พวกท่านมอบ (ใบหน้าแด่อัลลอฮฺ) แล้วหรือ? ถ้าหากพวกเขาได้มอบแล้วแน่นอนพวกเขาก็ได้รับแล้ว ซึ่งแนวทางอันถูกต้องและถ้าหากพวกเขาผินหลังให้ แท้จริงหน้าที่ของเจ้านั้นเพียงการประกาศให้ทราบเท่านั้น และอัลลอฮฺ นั้นเป็นผู้ทรงเห็นปวงบ่าวทั้งหลาย
ตัฟซีร
ชั้นต่างๆ
บทเรียน
ภาพสะท้อน
คำตอบ
กิรอต
หะดีษ
คุณกำลังอ่านตัฟซีร สำหรับกลุ่มอายะห์ที่ 3:18 ถึง 3:22

کائنات کا خدا ایک ہی خداہے اور وہ عدل وقسط کو پسند کرتا ہے۔ تمام آسمانی کتابیں اپنی صحیح صورت میں اسی کا اعلان کررہی ہیں۔ پھیلی ہوئی کائنات جس كو اس کا مالک اپنے غیر مرئی کارندوں (فرشتوں) کے ذریعہ چلا رہا ہے وہ کامل طور پر ویسی ہی ہے جیسا کہ اس کو ہونا چاہیے۔ ثابت شدہ علم انسانی کے مطابق کائنات ایک حد درجہ وحدانی نظام ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کا مدبر صرف ایک ہے۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز کا اپنے محل مناسب میں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کاخدا عد ل کو پسند کرنے والا خدا ہے، نہ کہ بے انصافی کو پسند کرنے والا۔ پھر جو خدا وسیع تر کائنات میں مسلسل عدل کو قائم کيے ہوئے ہو وہ انسان کے معاملے میں خلافِ عدل باتوں پرکیسے راضی ہوجائے گا۔

کائنات کا ہر جزء کامل طورپر ’’مسلم‘‘ ہے۔ یعنی اپنی سرگرمیوں کو اللہ کے مقررہ نقشہ کے مطابق انجام دیتا ہے۔ ٹھیک یہی رویہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کے مطلوبہ نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا مرکز توجہ بنانا یا یہ خیال کرنا کہ اللہ کا فیصلہ عدل کے سوا کسی اور بنیاد پر ہوسکتا ہے، ایسی بے اصل بات ہے جس کے لیے موجودہ کائنات میں کوئی گنجائش نہیں۔

قرآن کی دعوت اسی سچے اسلام کی دعوت ہے۔ جو لوگ اس سے اختلاف کررہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں هے کہ اس کا حق ہونا ان پر واضح نہیں ہے۔ اس کی وجہ ضد ہے۔ اس کو ماننا انھیں داعیٔ قرآن کی فکری برتری تسلیم کرنے کے ہم معنی نظر آتا ہے، اور ان کی حسد اور کبر کی نفسیات اس قسم کا اعتراف کرنے پر راضی نہیں۔ سیدھی طرح حق کو مان لینے کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ اس زبان ہی کو بند کردیں جو حق کا اعلان کررہی ہے۔ تاہم خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ داعیٔ حق کی زبان کو بند کرنے کے لیے ان کا ہر منصوبہ ناکام ہوگا اور جب خدا کے عد ل کا ترازو کھڑا ہوگا تو وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے وہ اعمال کس قدر بے قیمت تھے جن کے بل پر وہ اپنی نجات اور کامیابی کا یقین کيے ہوئے تھے — سچی دلیل خدا کی نشانی ہے۔ جو شخص دلیل کے سامنے نہیں جھکتا وہ گویا خدا کے سامنے نہیں جھکتا۔ ایسے لوگ قیامت میں اس طرح اٹھیں گے کہ وہ سب سے زیادہ بے سہارا ہوں گے۔