ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
เลือกภาษา

ตัฟซีร: Hud 11:116

11:116
فلولا كان من القرون من قبلكم اولو بقية ينهون عن الفساد في الارض الا قليلا ممن انجينا منهم واتبع الذين ظلموا ما اترفوا فيه وكانوا مجرمين ١١٦
فَلَوْلَا كَانَ مِنَ ٱلْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُو۟لُوا۟ بَقِيَّةٍۢ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْفَسَادِ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ ۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَآ أُتْرِفُوا۟ فِيهِ وَكَانُوا۟ مُجْرِمِينَ ١١٦
فَلَوۡلَا
كَانَ
مِنَ
ٱلۡقُرُونِ
مِن
قَبۡلِكُمۡ
أُوْلُواْ
بَقِيَّةٖ
يَنۡهَوۡنَ
عَنِ
ٱلۡفَسَادِ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
إِلَّا
قَلِيلٗا
مِّمَّنۡ
أَنجَيۡنَا
مِنۡهُمۡۗ
وَٱتَّبَعَ
ٱلَّذِينَ
ظَلَمُواْ
مَآ
أُتۡرِفُواْ
فِيهِ
وَكَانُواْ
مُجۡرِمِينَ
١١٦
[116] ทำไมในศตวรรษก่อนจากพวกเจ้าจึงไม่มีปัญญาชนช่วยกันห้ามปรามการบ่อนทำลายในแผ่นดิน เว้นแต่จำนวนน้อยเท่านั้นจากผู้ที่เราได้ช่วยพวกเขาให้รอดพ้น และบรรดาผู้อธรรมได้ปฏิบัติตามสิ่งที่พวกเขาถูกให้อยู่ในความสำราญ พวกเขาจึงเป็นผู้กระทำผิด
ตัฟซีร
ชั้นต่างๆ
บทเรียน
ภาพสะท้อน
คำตอบ
กิรอต
หะดีษ
คุณกำลังอ่านตัฟซีร สำหรับกลุ่มอายะห์ที่ 11:116 ถึง 11:117

یہ مختصر سا اشارہ اس پالیسی کو ظصاہر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کے بارے میں اختیار کی ہوئی ہے۔ جس قوم کے اندر بگاڑ اور فساد عام ہوجائے ، جس میں انسان انسان کا غلام ہو ، خواہ اس کی کوئی بھی صورت ہو ، لیکن اس میں ایسے لوگ بھی موجود ہوں جو اصلاح احوال کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو یہ قوم بچنے والی قوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسی قوم کو نیست و نابود نہیں فرماتا۔ لیکن ایسی اقوام جس میں ظالم ظلم کریں اور دندناتے پھریں ، فسادی فساد کرتے رہیں اور کوئی روکنے والا نہ ہو یا ان میں ایسے لوگ ہوں جو ظلم و فساد کو برا سمجھتے ہوں کے وہ صورت حالات کو بدلنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ تو ان قوموں کے بارے سنت الہٰیہ اپنا کام کرتی ہے یا تو اس قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا ہے یا اس پر ایسا عذاب آتا ہے کہ یہ قوم من حیث القوم بکھر جاتی ہے۔

لہذا وہ لوگ جو اس زمین پر اللہ کی ربوبیت کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں ، ایسا نظام جس میں صرف اللہ حاکم ہو اور وہ لوگ جو زمین میں اللہ کی حاکمیت اور شر یعت کی عدالت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں اللہ کے سوا کسی کا حکم نہ چلتا ہو تو ایسے لوگ دراصل زمین کا نمک ہیں اور ان کی وجہ سے اقوام کی ہلاکت رکی ہوئی ہوتی ہے۔ لہذا وہ لوگ جو دنیا میں اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لیے سعی کرتے ہیں۔ وہ بڑی قدر و قیمت کے مالک ہوتے ہیں ، جو ظلم و فساد کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں ، نہ صرف یہ کہ لوگ اپنے رب کی طرف سے عائد شدہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں بلکہ یہ جس قوم میں کام کرتے ہیں وہ قوم کلی ہلاکت اور من حیث القوم ہلاکت کے عذاب سے بچ جاتی ہے ، ان کی وجہ سے اقوام پر اللہ کا عذاب موقوف رہتا ہے۔

آخری تبصرہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، بعض انسان بھلائی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور بعض بگاڑ کی طرف ، اس کائنات میں اللہ نے یہ سنت بھی جاری کردی ہے کہ کچھ لوگ اس طرف ہوں گے اور کچھ اس طرف