登入
登入
登入
选择语言
20:131
ولا تمدن عينيك الى ما متعنا به ازواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وابقى ١٣١
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِۦٓ أَزْوَٰجًۭا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌۭ وَأَبْقَىٰ ١٣١
وَلَا
تَمُدَّنَّ
عَيۡنَيۡكَ
إِلَىٰ
مَا
مَتَّعۡنَا
بِهِۦٓ
أَزۡوَٰجٗا
مِّنۡهُمۡ
زَهۡرَةَ
ٱلۡحَيَوٰةِ
ٱلدُّنۡيَا
لِنَفۡتِنَهُمۡ
فِيهِۚ
وَرِزۡقُ
رَبِّكَ
خَيۡرٞ
وَأَبۡقَىٰ
١٣١
你不要觊觎我所用以供给他们中各等人享受的,那是今世生活的浮华,我用来考验他们;你的主的给养,是更好的,是更久的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
20:131至20:132节的经注

ان آیات کا خطاب اگر چہ بظاہر پیغمبر سے ہے مگر اس کے مخاطب تمام اہلِ ایمان ہیں۔ دنیا میں ایک شخص ایمان اور دعوت کی زندگی اختیار کرتاہے۔ اس کے نتیجے میں اس کی زندگی مشقتوں کی زندگی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف یہ حال ہے کہ جو لوگ اس قسم کی ذمہ داریوں سے آزاد ہیں وہ آرام اور راحت میں اپنے صبح وشام گزاررہے ہیں۔ اس صورت حال کو نمایاں کرکے شیطان آدمی کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ وہ مومن اور داعی کو متزلزل کرنے کی کوشش کرتاہے۔

لیکن گہرائی سے دیکھا جائے تو اس ظاہری فرق کے آگے ایک اور فرق ہے اور وہ فرق زیادہ قابل لحاظ ہے۔وہ فرق یہ کہ دنیا پرست لوگوں کو جو چیز ملی ہے وہ محض امتحان کے لیے ہے اور سراسر وقتی ہے۔ اس کے بعد ابدی زندگی میں ان کے لیے کچھ نہیں۔ دوسری طرف مومن اور داعی کو خدا سے وابستگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں جو چیز ملی ہے وہ تمام دنیا کی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ ہے — اللہ کی یاد، آخرت کی فکر، عبادت اور تقویٰ کی زندگی، خدا کے بندوں کو آخرت کی پکڑ سے بچانے کے لیے فکر مند ہونا۔ یہ بھی رزق ہے۔ اور یہ زیادہ اعلیٰ رزق ہے کیوں کہ وہ آخرت میںایسی بے حساب نعمتوں کی شکل میں آدمی کی طرف لوٹے گا جوکبھی ختم ہونے والی نہیں۔