Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Sad 38:1

38:1
ص والقران ذي الذكر ١
صٓ ۚ وَٱلْقُرْءَانِ ذِى ٱلذِّكْرِ ١
صٓۚﱁﱂ
وَٱلۡقُرۡءَانِﱃ
ذِيﱄ
ٱلذِّكۡرِﱅ
١ﱆ
Ṣãd. By the Quran, full of reminders!
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 38:1 to 38:3

’’ذکر‘‘ کے اصل معنی یاد دہانی کے ہیں۔یاد دہانی کسی ایسی چیز کی کرائی جاتی ہے جو بطور واقعہ پہلے سے موجود ہو۔ قرآن کے ذی الذکر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ان حقیقتوں کو ماننے کی دعوت دیتاہے جو انسانی فطرت میں پہلے سے موجود ہیں۔ قرآن کی کوئی بات اب تک خلاف واقعہ یا خلاف فطرت نہیں نکلی۔ یہی اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ قرآن سراسر حق ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ قرآن کو نہ مانیں ان کے نہ ماننے کا سبب یقینی طور پر نفسیاتی ہے، نہ کہ عقلی۔ ان کا نہ ماننا کسی دلیل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اس ليے ہے کہ اس کو مان کر ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔

قرآن اُس دعوت توحید کا تسلسل ہے جو پچھلے ہر دور میں مختلف نبیوں کے ذریعہ جاری رہی ہے۔پچھلے زمانوں میںجن لوگوںنے اس دعوت کا انکار کیا وہ ہلاک کردئے گئے۔ حال کے منکرین کو ماضی کے منکرین کے اس انجام سے سبق لینا چاہيے۔