Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Bayan ul Quran Тафсир: Al-Insan Ая 10

76:10
انا نخاف من ربنا يوما عبوسا قمطريرا ١٠
إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًۭا قَمْطَرِيرًۭا ١٠
إِنَّاﱤ
نَخَافُﱥ
مِنﱦ
رَّبِّنَاﱧ
يَوۡمًاﱨ
عَبُوسٗاﱩ
قَمۡطَرِيرٗاﱪ
١٠ﱫ
Мы боимся от своего Господа того Мрачного и Томительного дня».
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис

آیت 10{ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا۔ } ”ہم تو ڈرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے ایک ایسے دن سے جس کی اداسی بڑی ہولناک ہوگی۔“ عَبُوْس کا لفظ ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جس کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہ آتی ہو ‘ بلکہ غصہ اور وحشت برستی ہو۔ جب کہ قمطریر کا معنی ہے بہت سخت ‘ بہت کرخت ‘ ہولناک اور طویل۔ چناچہ یہاں اس سے مراد میدانِ محشر کی وہ کیفیت ہے جس کی وجہ سے کھرب ہا کھرب انسان متفکر ّاور پریشان ہوں گے اور ان میں سے کسی ایک کے چہرے پر بھی مسکراہٹ کے آثار تک نظر نہیں آئیں گے۔