Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: Al-Hijr 15:29

15:29
فاذا سويته ونفخت فيه من روحي فقعوا له ساجدين ٢٩
فَإِذَا سَوَّيْتُهُۥ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِى فَقَعُوا۟ لَهُۥ سَـٰجِدِينَ ٢٩
فَإِذَا
سَوَّيۡتُهُۥ
وَنَفَخۡتُ
فِيهِ
مِن
رُّوحِي
فَقَعُواْ
لَهُۥ
سَٰجِدِينَ
٢٩
Когда же Я придам ему соразмерный облик и вдохну в него от Моего духа, то падите перед ним ниц».
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 15:28 до 15:33
ابلیس لعین کا انکار ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ” آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا “۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ‏ ” صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ “ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:62] ‏ ” تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا “۔

ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ” میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا “۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔‏“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4312