Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Tazkir ul Quran Тафсир: Taha Ая 90

20:90
ولقد قال لهم هارون من قبل يا قوم انما فتنتم به وان ربكم الرحمان فاتبعوني واطيعوا امري ٩٠
وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَـٰرُونُ مِن قَبْلُ يَـٰقَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحْمَـٰنُ فَٱتَّبِعُونِى وَأَطِيعُوٓا۟ أَمْرِى ٩٠
وَلَقَدۡﱛ
قَالَﱜ
لَهُمۡﱝ
هَٰرُونُﱞ
مِنﱟ
قَبۡلُﱠ
يَٰقَوۡمِﱡ
إِنَّمَاﱢ
فُتِنتُمﱣ
بِهِۦۖﱤﱥ
وَإِنَّﱦ
رَبَّكُمُﱧ
ٱلرَّحۡمَٰنُﱨ
فَٱتَّبِعُونِيﱩ
وَأَطِيعُوٓاْﱪ
أَمۡرِيﱫ
٩٠ﱬ
Харун (Аарон) сказал им до этого: «О мой народ! Вас искушают этим. Ваш Господь - Милостивый. Следуйте за мной и повинуйтесь моим велениям».
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 20:90 до 20:91

حضرت موسیٰ کے بعد قوم کی دیکھ بھال کی ذمہ داری حضرت ہارون پر تھی۔ انھوںنے قوم کو کافی سمجھانے کی کوشش کی۔ مگر قوم کے اوپر ان کا وہ دباؤ نہ تھا جو حضرت موسیٰ کا تھا۔اس ليے ان کے منع کرنے کے بعد بھی لوگ اس سے نہ رکے۔ حضرت ہارون کا اصرار بڑھا تو لوگوں نے کہا کہ اب جوہوگیا وہ تو اسی طرح جاری رہے گا۔ موسیٰ جب لوٹ کر آئیں گے تو وہی اس کا فیصلہ کریںگے۔

حضرت ہارون اس وقت اگر کوئی سخت اقدام کرتے تو وہ نتیجہ خیز نہ ہوتا۔ کیوں کہ آپ کے ساتھ جو لوگ تھے ان کی تعداد کم تھی۔ آپ نے بے نتیجہ کارروائی کرنے کے مقابلہ میں اس کو زیادہ مناسب سمجھا کہ وقتی طور پر صبر کا طریقہ اختیا رکرلیں۔ اور لوگوں کي اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں۔