Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Tazkir ul Quran Тафсир: Taha Ая 84

20:84
قال هم اولاء على اثري وعجلت اليك رب لترضى ٨٤
قَالَ هُمْ أُو۟لَآءِ عَلَىٰٓ أَثَرِى وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَىٰ ٨٤
قَالَﲖ
هُمۡﲗ
أُوْلَآءِﲘ
عَلَىٰٓﲙ
أَثَرِيﲚ
وَعَجِلۡتُﲛ
إِلَيۡكَﲜ
رَبِّﲝ
لِتَرۡضَىٰﲞ
٨٤ﲟ
Муса (Моисей) сказал: «Они находятся неподалеку и следуют по моим стопам, я же поторопился к Тебе, Господи, чтобы Ты остался доволен».
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 20:83 до 20:85

مصرسے نکلنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے لیے ایک تاریخ مقرر کی کہ اس روز وہ کوہِ طور کے اسی دامن میں دوبارہ آئیں جہاں انھیں ابتداء ً پیغمبری ملی تھی۔ یہاں حضرت موسیٰ کو تورات لینے کے ليے اپنی پوری قوم کے ساتھ پہنچنا تھا۔ مگر فرط شوق میں وہ تیزی سے روانہ ہو کر مقررہ تاریخ سے کچھ دن پہلے مقام موعود پر آگئے۔ اور قوم کو پیچھے چھوڑ دیا۔ قوم سے حضرت موسیٰ کی علیحدگی قوم کے ليے فتنہ بن گئی۔قوم میں بعض مشرکانہ ذہنیت کے لوگ تھے۔ سامری ان کا لیڈر تھا۔ ان لوگوں نے حضرت موسیٰ کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا کر قوم کو بہکایا اور اس کو بچھڑے کی پرستش میں مبتلا کردیا جیسا کہ مصر میں اس زمانہ میں ہوتا تھا۔