Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Tazkir ul Quran Тафсир: Taha Ая 48

20:48
انا قد اوحي الينا ان العذاب على من كذب وتولى ٤٨
إِنَّا قَدْ أُوحِىَ إِلَيْنَآ أَنَّ ٱلْعَذَابَ عَلَىٰ مَن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ٤٨
إِنَّاﳍ
قَدۡﳎ
أُوحِيَﳏ
إِلَيۡنَآﳐ
أَنَّﳑ
ٱلۡعَذَابَﳒ
عَلَىٰﳓ
مَنﳔ
كَذَّبَﳕ
وَتَوَلَّىٰﳖ
٤٨ﳗ
Мы получили откровение о том, что мучениям подвергнется всякий, кто счел истину ложью и отвернулся».
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 20:45 до 20:48

فرعون نہایت متکبر تھا۔ اقتدار پاکر وہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگا تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ کو اندیشہ ہواکہ جب وہ دیکھے گا کہ اس کے سوا کسی اور خدا کا پیغام اس کو سنایا جارہا ہے تو وہ غصہ میں بھڑک اٹھے گا۔ مگر خدا کا پیغمبر مکمل طورپر خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے۔ اس لیے حکم ہوا کہ تم جاؤ اور یہ یقین رکھو کہ فرعون اپنی ساری طاقت اور جبروت کے باوجود تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

بنی اسرائیل قدیم زمانہ کے مسلمان تھے۔ وہ اصلاً ایک موحد قوم تھے۔ مگر مصر کی مشرک قوم کے درمیان رہتے ہوئے وہ مشرکانہ تہذیب سے بری طرح متاثر ہوگئے تھے۔ مزید یہ کہ مشرک حکمرانوں نے بنی اسرائیل کو اس طرح محنت مزدوری میں لگا رکھا تھا کہ وہ اس قابل نہیں رہے تھے کہ وہ توحید اور آخرت کی اعلیٰ حقیقتوں کے بارے میں سوچ سکیں۔ اس لیے حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو مشرکانہ ماحول سے نکالو اور ان کو الگ خطہ زمین میںآباد کرو۔ تاکہ شرک اور جاہلیت کی فضا سے کٹ کر ان کی تربیت ممکن ہوسکے۔