Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Tazkir ul Quran Тафсир: Sad Ая 30

38:30
ووهبنا لداوود سليمان نعم العبد انه اواب ٣٠
وَوَهَبْنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيْمَـٰنَ ۚ نِعْمَ ٱلْعَبْدُ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ ٣٠
وَوَهَبۡنَاﱬ
لِدَاوُۥدَﱭ
سُلَيۡمَٰنَۚﱮﱯ
نِعۡمَﱰ
ٱلۡعَبۡدُﱱ
إِنَّهُۥٓﱲ
أَوَّابٌﱳ
٣٠ﱴ
Мы даровали Давуду (Давиду) Сулеймана (Соломона). Как прекрасен был этот раб! Воистину, он всегда обращался к Аллаху.
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 38:30 до 38:33

حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام ایک عظیم سلطنت کے حکمراں تھے۔ ایک روز ان کی فوج کے اصیل اور تربیت یافتہ گھوڑے ان کے سامنے لائے گئے۔ پھر ان کی دوڑ ہوئی۔ یہاں تک کہ گھوڑے دوڑتے ہوئے دور کے منظر میں گم ہوگئے۔ اورپھر وہ دوبارہ واپس آئے۔

اس قسم کا منظر ہمیشہ نہایت شان دار ہوتا ہے۔ ان کو دیکھ کر عام انسان فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مگر حضرت سلیمان کا حال یہ ہوا کہ وہ اس پرُ فخر منظر کو دیکھ کر خدا کو یاد کرنے لگے۔ انھوںنے کہا کہ میں نے یہ گھوڑے اپنی شان دکھانے کےلیے پسند نہیں کيے ہیں بلکہ صرف خدا کےلیے پسند کيے ہیں۔ گھوڑے کی شکل میں انھیں خدا کی عظیم کاریگری نظر آئی۔ اور وہ خدا کی عظمت کے اعتراف کے طورپر گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے — مومن ہر چیز میں خدا کی شان دیکھتا ہے اور غیر مومن ہر چیز میں اپنی شان۔